Express News:
2026-07-24@03:26:55 GMT

دہشت گردی کے چیلنج سے کیسے نمٹا جائے ؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

دہشت گردی ریاست پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ یا چیلنج ہے۔ دہشت گردی کے چیلنج سے مختلف حکمت عملیوں کی بنیاد پر نمٹنے کی کوشش کی جاری ہے۔ ان حکمت عملیوں میں سیاسی ،انتظامی اور بیانیے کی حکمت عملیاں بھی موجود ہیں ۔

اس کے باوجود دہشت گردی یا انتہا پسندی سمیت پرتشدد رجحانات قومی سیاست اور معاشرے میں بڑے خطرے کا منظر پیش کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے بہت سے ماہرین کے بقول پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع،کثیر الجہتی اور خود انحصاری پر مبنی سیاسی اور سیکیورٹی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ نقطہ بنیادی طور پر ہماری پالیسیز پر بھی مختلف نوعیت کے سوالات اٹھاتا ہے اور غوروفکر کی دعوت بھی دیتا ہے ۔

پاکستان کا مسئلہ محض دہشت گردی کے تناظر میں داخلی نوعیت کا نہیں بلکہ ان مسائل کا ایک بڑا تعلق ہماری علاقائی سیاست یا علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔

ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور داعش خراسان جیسی تنظیمیں ہیں جو پاکستان کو براہ راست عدم استحکام اور دہشت گردی سے نہ صرف دوچار کرنے کا سبب بن رہی ہیں بلکہ ان کو پاکستان مخالف قوتوں بالخصوص بھارت اور افغانستان کی بھی براہ راست حمایت وسرپرستی حاصل ہے ۔

اس وقت افغانستان اور بھارت کے درمیان جو باہمی رابطے مضبوط ہورہے ہیں جس کی بنیاد پاکستان دشمنی پر ہے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی نئے خطرات کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔

پاکستان میں زیادہ تر دہشت گردی کے حملے سرحد پار افغان سرزمین سے ہورہے ہیں جو علاقائی سلامتی کو چیلنج کر رہے ہیں ۔اس تناظر میں ہمیں سفارت کاری کے محاذ پر افغانستان سے بھی کافی سنگین نوعیت کے اہم مسائل کا سامنا ہے جو پاکستان کے تحفظات کو براہ راست نظرانداز کرکے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی نہ صرف حمایت بلکہ اس کی سرکاری سرپرستی بھی کرتا ہے ۔

اس سارے عمل میں افغانستان کی بڑی طاقت بھارت ہے جو افغانستان کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مدد فراہم کررہا ہے۔حالیہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات نے نہ صرف ہمیں جنجھوڑا ہے بلکہ پیغام یا وارننگ دی ہے کہ ہمارے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ اس وقت براہ راست حالت جنگ میں ہیں ، جہاں افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر موجود ہے، ہمیں ان سے نمٹنے کے لیے نئی سیاسی اور انتظامی یا سیکیورٹی حکمت عملی درکار ہے ۔

ایک محاذ تو براہ راست سفارت کاری یا ڈپلومیسی کا میدان ہے جہاں اس وقت ہمارے کافی نئے امکانات ہیں اور پاکستان کا حالیہ عرصہ میں سفارت کاری میں بہت سے نئے امکانات کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔

ایک طرف عالمی سفارت کاری جس میں امریکا ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس یا پھر علاقائی سطح پر چین ، روس،سعودی عرب ،قطر،ترکی جیسے ممالک کے ساتھ بھارت اور افغان باہمی گٹھ جوڑ یا پاکستان مخالف کردار یا دہشت گردی یا دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور سرپرستی پر عالمی اور علاقائی حمایت کا حصول اور بھارت اور افغانستان پر دباوبڑھانے کا عمل ہی ہم کو کچھ بہتر نتائج دے سکے گا۔

اس کے لیے ہمیں سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر سرگرم اور فعالیت پر مبنی کردار جس میں جذباتیت کی جگہ اعداد وشمار اور شواہد پر مبنی ڈپلومیسی کو ترتیب دینا اور پاکستان میں موجود سابق سفارت کارو ں کی اس سلسلے میں ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانا سمیت عالمی اور علاقائی دنیا کو پاکستان مخالف دہشت گردی کی پالیسی کے ساتھ جوڑ کر رکھنا ہے ۔

ہمیں عالمی اور علاقائی فورمز پر اس نقطہ نظر پر تواتر کے ساتھ زور دینا ہوگا کہ اول بھارت اور افغان گٹھ جوڑ کیسے پاکستان سمیت خطہ میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور دوسری طرف ہمیں علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسے علاقائی میکنزم کی تشکیل پر زور دینا ہے جہاں پاکستان اور بھارت سمیت سب ایک دوسرے کو جوابدہ ہوں اور دہشت گردی کے خاتمہ میں مشترکہ حکمت عملی اور تعاون سامنے آئے ۔

اسی طرح داخلی محاذ پر پاکستان کو بہت کچھ کرنا چاہیے اور اپنی ترجیحات کا درست تعین کرکے اتفاق رائے پر مبنی حکمت عملی ہماری پہلی ضرورت بنتی ہے۔ہم نے نیشنل سیکیورٹی پالییسی،نیشنل ایکشن پلان،پیغام پاکستان، دختران پاکستان،قومی انسداد دہشت گردی پالیسی ،سائبر کرائم یا سائبر پالیسی اور صوبائی سطح پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں سی ٹی ڈی میں پی ای وی کی بنیاد پر سینٹر آف ایکسلینس آن کاونٹرننگ وائلنٹ انتہا پسندی سی وی ای بھی تشکیل دیے گئے ہیں ۔

اصل میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہماری حکمت عملی دو حصوں پر مشتمل ہونی چاہیے اول سیاسی اور علمی و فکری نوعیت پر مبنی جہاں ہم دہشت گردی ،انتہاپسندی اور پرتشدد رجحانات کے خاتمہ اور پرامن بیانیہ کی تشکیل اور اس عمل میں کسی اگر مگر کے بغیر ریاست اور ملک کے مفاد میں مشترکہ کوششوں کی حمایت ہونی چاہیے۔

دوسری طرف جہاں ہمیں انتظامی اور طاقت کی بنیاد پر سیکیورٹی کے معاملات سے نمٹنا ہے اس کی سیکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت بھی شامل ہونی چاہیے۔ایک بڑا مسئلہ دونوں صوبے جو اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں یا جہاں ان کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہوا ہے ان کی گورننس کا نظام،عدالتی اور انصاف کا نظام ہو یا عام لوگوں کے مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے روزمرہ کے بڑھتے ہوئے مسائل اور بنیادی حقوق سے محرومی کی سیاست نے ان علاقوں کو آتش فشاں بنایا ہوا ہے۔

ایک مسئلہ سیاسی ڈیڈ لاک کا بھی ہے ۔اس وقت وفاقی حکومت اور مقامی سیاسی قیادت کے درمیان عملا بداعتمادی کا ماحول ہے۔ ہمیں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سطح پر براہ راست دہشت گرد کا سامنا ہے تو اس کی حکمت عملی باقی دو صوبوں کے مقابلے میں مختلف ہوگی۔

وفاقی حکومت،چاروں صوبائی سطح پر موجود حکومتوں اور وفاقی یا صوبائی ملٹری یا سول انٹیلی جنس سطح پر موثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہماری ترجیح کا بڑا حصہ ہونا چاہیے۔اس کی پہلی شرط یہ بھی ہے، سیاسی مسائل حل کیے جائیں ۔

ہمیں نئی نسل کو بنیاد بنا کر تعلیم کے نظام پر ابتدا سے لے کر ہائیر ایجوکیشن بشمول مدارس کی تعلیم، میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا لٹریسی ،تعلیمی نصاب میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں،اساتذہ کی تربیتی نظام کو موثر بنانا اور علمائے کرام کے کردار کو بہتر بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔

اس کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنی سیاسی اور دفاعی یا سیکیورٹی حکمت عملی کو ترتیب دینا ہوگا اور ان میں ایک دوسرے کے درمیان توازن بھی پیدا کرنا ہوگا۔بالخصوص ہمیں عالمی سطح پر انحصار کم کرکے اپنے داخلی مسائل کا علاج زیادہ موثر انداز میں اور موثر حکمت عملی کے تحت خود تلاش کرنا ہوگا۔کیونکہ یہ جنگ ہماری ہے اور ہمیں ہی خود کو اس جنگ سے باہر بھی نکالنا ہے اور اسی میں ہماری بقا بھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان مخالف دہشت گردی کے کی بنیاد پر سفارت کاری سیاسی اور براہ راست حکمت عملی بھارت اور کے ساتھ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار