Express News:
2026-07-24@01:58:14 GMT

’’گبر ‘‘کی واپسی ناگزیر

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

ریاست کی مضبوطی کا دارومدار قانون کی عملداری کے پیمانے پر ناپا جاتا ہے، اور قانون کی عملداری کا عملی پیمانہ اور چہرہ پولیس کی کارکردگی ہوتی ہے۔ پولیس سے عام شہری کا سب سے زیادہ براہِ راست واسطہ پڑتا ہے اور عوام کے دلوں میں ریاست کا تصور اکثر پولیس کے رویّے سے جڑا ہوتا ہے۔

پولیس محکمے کے قیام کا مقصد معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا، جرائم کی روک تھام، شہریوں کی جان و مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنانا اور قانون کو بلا امتیاز نافذ کرکے ریاست کی عملداری قائم کرنا ہے جس کے لیے پولیس کو آئین و قانون کے مطابق اختیارات دیے گئے ہیں، پولیس کو دیے گئے اختیارات اسی وقت بامقصد اور موثر ثابت ہوںگے جب ان کا استعمال قانون اور آئین کی حدود و قیود میں ہوگا۔

میرا آبائی ضلع صوابی جو جرائم خاص کر قتل و قتال اور منشیات فروشی کے لحاظ پاکستان کے بدترین ضلعوں میں آتا ہے، عوامی مطالبے اور صوابی کے ڈی پی او کی خواہش پر ایک نڈر اور دبنگ پولیس آفیسر عبدالعلی خان کو ایس ایچ او پولیس اسٹیشن صوابی تعینات کیا گیا۔ ان کی بہادری اور جرم سے نفرت کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں انھیں "گبر" کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

پولیس کسی فرد، گروہ یا طاقتور طبقے کی محافظ نہیں پورے معاشرے کی نگہبان اور محافظ ہے۔ آئینِ پاکستان پولیس کو پابند کرتا ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے، بالخصوص خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو ظلم، زیادتی اور استحصال سے بچانے کے لیے کردار ادا کرے۔

اگر کوئی پولیس آفیسر تعیناتی کے بعد اپنے علاقے میں فحاشی، منشیات اور قتل و غارت گری کی روک تھام کے لیے مہم چلائے اور آہنی ہاتھوں سے مجرموں سے نپٹنے کے عملی اقدامات کرے تو یہ ان کے فرائض منصبی کے علاوہ معاشرے پر احسان ہوگا۔

میرا آبائی ضلع صوابی چونکہ جرائم خصوصاً قتل و قتال اور منشیات فروشی کے لحاظ پاکستان کے بدترین ضلعوں میں آتا ہے، اس لیے یہاں ایک اچھے‘بہادر اور نیک نام پولیس افسرکی ضرورت ہے جو کسی کے دباؤ میں نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش مانیں اور نہ ہی اسے دولت کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا جا سکے۔گبر ایسا ہی پولیس افسر ہے۔

 انھوں نے علاقے کے معززین کے سامنے کھلی کچہری میں معززین علاقہ کو سننے کے بعد تقریر کی جس کا ایک ایک حرف ایک طرف صوابی کے غیور اور مجرموں، منشیات فروشوں کے نرغے میں پھنسی عوام کے دلوں کی آواز اور آرزو تو دوسری طرف جرائم پیشہ افراد اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے سروں پر آسمانی بجلی گرنے کی مترادف تھی۔

پولیس افسر کا یہ اعتراف کہ ’’میرے فرائض منصبی کا تقاضا اور بحیثیت مسلمان میری ذمے داری ہے کہ میں عوام کی جان و مال اور عزت و ناموس کی حفاظت کروں اور ہر جرم نفرت کے جرائم پیشہ افراد کو نشان عبرت بناؤں‘‘۔

اسی کھلی کچہری میں یہ شکایات سامنے آئیں کہ کچھ عرصہ سے صوابی میں اوباش نوجوانوں کا بازاروں میں خواتین کو تنگ کرنے کا رحجان بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے ہر شریف النفس صوابیوال پریشان ہے۔ان شکایات کے جواب میں پولیس افسر نے کہا کہ صوابی کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں مجھے سگی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی طرح عزیز اور ان کی عزتوں کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے۔

انھوں نے یہ درخواست بھی کی کہ ’’فتنوں کا دور ہے، اگر خواتین بازاروں میں اپنے والد، شوہر یا بیٹے یعنی کسی محرم کے ساتھ آئیں گی تو وہ محفوظ محسوس کریںگی اور ہمیں مادر پدر آزاد اوباش نوجوانوں کو نکیل ڈالنے میں آسانی ہوگی‘‘۔

میری نظر میں ایسا کہنا کوئی جرم یا معیوب بات نہیں ہے بلکہ پولیس کے فرائض منصبی کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ اور علاقے کی پختون روایات کے عین مطابق شرفاء کے لیے صائب مشورہ ہے اور اوباش نوجوانوں اور جرائم پیشہ افراد کو وارننگ تھی۔

 چند سفید پوشوں اور سیاست دانوں کو اس علاقے کے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں۔ میں نہیں مانتا کہ صوابی میں کوئی شخص خواتین کے بازاروں میں اپنے محرم کے ساتھ آنے کی تجویز کو برا مانے لیکن چند بااثر لوگوں نے خواتین کے معاملے پر مشورے کو رجعت پسند ی اور طالبانائزیش کا نام دینا شروع کردیا ۔

یوں متعلقہ پولیس افسر کا تبادلہ کردیا گیا، مگر تصویر کا دوسرا رخ یوں سامنے آیا کہ پولیس افسر کی حمایت میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے ۔

ادھر بااثر لوگ خیبر پختونخوا کے گورنر صاحب کو  ٹرانسفر کے معاملے میں ملوث کرنے میں کامیاب ہوگئے ، بطور صوابیوال میں تو اتنا کہوں گا کہ اگر گورنر صاحب اس چھوٹے سے معاملے میں نہ ہی پڑیں توبہتر ہے کیونکہ بعض نام نہاد لبرلز حقوق نسواں کے لبادے میں اس ایشو کو بلاوجہ آگے بڑھا رہے ہیں۔

یہ لوگ کسی کے ہمدرد یا حامی نہیں ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ہمیشہ ریاستی رٹ پر تو سوال اٹھاتا ہے مگر جرائم کے شکار عام شہری کی تکلیف اسے نظر نہیں آتی۔ منشیات سے تباہ ہونے والے نوجوان، مقتول کی آہ فغاں، خوف میں جینے والے تاجر اور شہری ان کے بیانیے کا حصہ نہیں بنتے۔

ایک پولیس افسرکے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ معاشرے میں طاقت، اخلاق اور قانون کے درمیان توازن کتنا بگڑ چکا ہے۔ میں ہر لمحہ صوابی کے شرفا اور حقیقی عوامی نمائندوں سے رابطے میں ہوں، میرے سمیت ہر ذی شعور صوابیوال نے مذکورہ پولیس افسر کے بارے میں منفی بات نہیں کی ہے۔

ٹرانسفر ہونے والے پولیس افسر نے خود بھی درخواست کی ہے کہ لوگ اپنا احتجاج ختم کریں۔ بہرحال اس معاملے سے باخبر ہر حساس مقامی شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ کیسا نظام ہے، جہاں بااثر طبقے کو تو فوراً سنا جاتا ہے مگر متوسط طبقے کے لوگوں کی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

ہمارے معاشرے میں عورت قتل ہوجائے ، اجتماعی زیادتی کا شکار ہوجائے یا بازاروں میں ہراساں کیا جائے تو معاملہ برق رفتاری سے دب جاتا ہے کیونکہ نہ کسی میں جرائم روکنے کی ہمت ہے نہ سزا کا عبرتناک نظام موجود ہے۔ عوام اسے سرکار کی عدم توجہی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ دوسری طرف اگر کوئی پولیس افسر اپنا فرض یا ڈیوٹی نبھانے کا ارادہ ظاہر کرے تو اسکا تبادلہ کردیا جائے یا اسے اپنے رنگ میں رنگ لیا جائے۔

 خیبر پختونخوا حکومت کے ذمے داران اپنے آئینی و قانون حقوق و فرائض دیکھیں کیا وہ ان پر پورا اتر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی سرکاری افسر کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنا ، کیا ڈیجیٹل دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا ہے،کیا اس پر قانون کو حرکت میں نہیں آنا چاہیے؟

جرم سے نفرت اور امن کے داعی پولیس اسٹیبلشمنٹ کو اس معاملے کا میرٹ پر نوٹس لینا چاہیے۔ مجھ سے ذاتی طور جو ہوسکا اور جس پر ملکف تھا وہ میں نے کردیا، صوابی کے عوام کی آواز آئی جی خیبرپختونخوا سمیت محکمہ پولیس اور متعلقہ اداروں میں موجود اپنے دوستوں تک فرداً فرداً پہنچائی ہے ، اب آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ گبر کی واپسی ہوتی یا نہیں حالانکہ یہ ناگزیرہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس افسر صوابی کے پولیس ا جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن