علیمہ خان کابیان ملکی سالمیت کیخلاف ہے،خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے بیان کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں ، یہ نہ میری اور نہ ہی عمران خان اور اس کے خاندان کے جاگیر ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے علیمہ خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان نے بیان دیا ہے کہ عمران خان اگر رہا نہیں ہوتے تو ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو مل کر صوبہ خیبرپختونخوا کو بند کردینا چاہیے۔
صوبہ بلوچستان میں دہشتگردی کا واقعہ ہو یا خیبرپختونخوا کے حالات، ہم مشکل اور چیلنجنگ حالات سے گزر رہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے فوجی جوان مادر وطن کے دفاع کےلیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جیسے ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ان تمام چیلنجز سے بھی سرخرو ہوں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور ان کے خاندان کاکردار تاریخ کے اس موڑ پر کھل کر سامنے آچکا ہے، سابق وزیراعظم اور ان کی جماعت ملک اور صوبہ خیبرپختونخوا کو خدانخواستہ کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر صوبہ خیبرپختونخوا وفاق کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ رکھنا چاہتا ہے تو اس جماعت کو یہ بھی قابل قبول نہیں ہے، اس جماعت کی تمام تر سیاست عمران خان کی قید سے شروع ہو کر اسی پرہی ختم ہو جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علیمہ خان
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔