کراچی:

شہر قائد کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہر کے مختلف علاقوں میں جاری سڑکوں کی بحالی اور ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا۔

اس موقع پر محکمۂ انجینئرنگ کے افسران نے میئر کراچی کو جاری منصوبوں، پیش رفت اور معیارِ تعمیر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

میئر کراچی نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں، کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ شہر کی شاہراہوں کو خوبصورت بنانا بھی اولین ترجیح ہے تاکہ کراچی کا مجموعی منظرنامہ بہتر ہو۔

مزید پڑھیں

میئر کراچی مرتضی وہاب گل پلازہ پہنچ گئے، ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت

گل پلازہ آتشزدگی، ریسکیو آپریشن، میئر کراچی کی موقع پر نگرانی

میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر فرقان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہر کی مختلف شاہراہوں اور اہم مقامات پر جاری بیوٹیفکیشن کے کاموں کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو اب عملی طور پر واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے۔

میئر کراچی نے کہا کہ یہ سال تبدیلی کا سال ہے اور کراچی کے شہری اس کے مثبت اثرات جلد محسوس کریں گے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب صرف وضاحتیں اور فائلوں تک محدود رپورٹس کافی نہیں، بلکہ سڑکوں اور شاہراہوں پر عملی اور نمایاں کام ہر صورت نظر آنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میئر کراچی کہا کہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟