غزہ: اسرائیلی حملے جاری،2 نومولود بچوں اور ایک ہی خاندان کے 11افراد سمیت 24 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری، 2 نومولود بچوں اور ایک ہی خاندان کے 11افراد سمیت 24 فلسطینی شہید ہوگئے، مرنے والوں میں خواتین، بچے اور طبی اہلکار بھی شامل ہے جبکہ رفح کراسنگ کھلنے کے بعد مزید 25 فلسطینی غزہ واپس پہنچ گئے جن کیاہلخانہ سے ملاقات کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں 2 نومولود بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں خواتین، بچوں اور ایک ڈیوٹی پر موجود طبی اہلکار کی بھی جان گئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 3 عسکری رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا اور بعض کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب غزہ میں موجود اس کے فوجیوں پر فائرنگ کی گئی، جس میں ایک اسرائیلی ریزرو فوجی شدید زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملے فوری ردعمل کے طور پر کیے گئے۔ غزہ کے شفا اسپتال کے حکام کے مطابق شمالی غزہ کے طفاح علاقے میں ایک عمارت پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے سیزفائر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ زمینی صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ رکی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ جزوی طور پر کھلنے کے بعد فلسطینیوں کی غزہ واپسی کا عمل جاری ہے اور گزشتہ شب مزید 25 فلسطینی غزہ واپس پہنچ گئے۔ واپس آنے والے افراد کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ غزہ واپس آنے والے کئی افراد نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں اسرائیلی سکیورٹی چیک پوائنٹس پر تفتیش اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ