ایران فوجی تصادم سے گریز چاہتا ہے، خطے میں موجودگی بڑھا رہےہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور تہران کسی فوجی تصادم سے گریز چاہتا ہے۔ واشنگٹن میں نیشنل پریئر بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا خطے میں اپنی بحری موجودگی بڑھا رہا ہے اور ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی سمت روانہ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ذاتی نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ طویل فضائی سفر کے دوران سونا پسند نہیں کرتے۔ ان کے مطابق وہ جہاز میں کھڑکی سے باہر دیکھتے رہتے ہیں تاکہ دشمنوں اور میزائلوں پر نظر رکھی جا سکے۔ یہ بات انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہی۔
امریکی صدر نے نیشنل پریئر بریک فاسٹ کو امریکا کی ایک مثبت اور دیرینہ روایت قرار دیا۔ تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔