Jasarat News:
2026-07-24@01:51:35 GMT

کیا دنیا میں کچھ ’’بڑا‘‘ ہونے والاہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا میں ایک بار پھر اسی کی دہائی کے اواخر کا سا منظر پیش کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر اس قسم کا ارتعاش اس سے پہلے اسی وقت دیکھا گیا جب سردجنگ اختتام کو پہنچ رہی تھی اور دنیا کا ایک نیا نقشہ تشکیل پا رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ڈربہ کھل گیا ہے اور مرغیاں اور چوزے اس سے نکل کر حیرت اور استعجاب کی دنیا میں اِدھر اُدھر بھاگے جا رہے ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سیاست میں طوفان برپا کرنے والا ایک اور لمحہ نائن الیون بھی تھا مگر اس سے عالمی سطح پر افراتفری کا یہ منظر نہیں اْبھرا تھا۔ دنیا نے نائن الیون پر امریکا کا موقف من وعن قبول کر لیا تھا اور امریکا کو ہمدردی کے اضافی نمبر مل گئے تھے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی مہر کے ساتھ دنیا میں اپنا سکہ جمانے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس بار کی ہلچل اقتصادی ہے اور ایک بارپھر کرۂ ارض کے ممالک دائیں بائیں بھاگے پھر رہے ہیں۔ یوں لگ رہا کہ امریکا کا معاشی فسوں ٹوٹ رہا ہے۔ 1990 میں ہر روز ایک نئی خبر سننے کو مل رہی تھی کہ سوویت یونین کا فلاح حصہ اعلان آزادی کر رہا ہے۔ سہمے اور ڈرے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل کر ڈوبتے ہوئے سوویت یونین کے کنٹرول کو آخری سلام کرکے نئے راستوں پر چل رہے تھے۔ مشرقی یورپ، وسط ایشیا کا ایک کے بعد دوسرا ملک اپنی راہیں جدا کر رہا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں نے بھی امریکا کے زیر اثر ملکوں کو آج کا ’’مشرقی یورپ‘‘ بنا دیا ہے۔ سب سے حیرت انگیز کروٹ یورپ لے رہا ہے جو امریکا کا قریب ترین اقتصادی اور عسکری اتحادی ہے۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ایک فرد کے آنے سے منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ اسی کی دہائی میں سوویت یونین نے سرد جنگ کا آخری معرکہ صدر برزنیف کی قیادت میں لڑا تھا مگر یہی وہ زمانہ تھا جب سوویت معیشت کو بربادی کا گھن لگنا بھی شروع ہو گیا تھا۔ برزنیف کی موت کے بعد آندروپوف سوویت حکمران بنے مگر وہ بھی زیادہ دیر جی نہ سکے اور قرعۂ فال میخائی گورباچوف کے نام نکلا۔ گورباچوف کی آمد تاریخ کے اسٹیج پر اپنے وقت کی عظیم طاقت کا اینٹی کلائمیکس ثابت ہوئی اور وہ اس دیوہیکل عالمی طاقت کے زوال کو آسان بنانے کے سوا کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ آج جب امریکا کے دیرینہ معاشی اور فوجی اتحادی اس کی ٹوکری سے اْچھل اْچھل کر گرتے اور نکلتے جارہے ہیں تو یہ سب ایک فرد کا کمال ہے اور اس فرد کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ دنیا میں لالی ووڈ کی اداکاراؤں کی طرح نمبر ون کی دوڑ لگی ہے۔ امریکا چین کے لیے ڈرائیونگ سیٹ خالی نہیں کر رہا اورچین اب اپنے پر پرزے اس قدر نکال چکا ہے کہ وہ اس ڈرائیونگ سیٹ کو اپنا حق سمجھ رہا ہے۔ اس کشمکش میں امریکا کے روایتی اتحادی اپنا مدار بدل رہے ہیں تو حالات امریکا کو نمبر دو بننے کا حقیقت پسندانہ فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کر تے دکھائی دے رہے ہیں مگر اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے مسئلے کا ایک رئیل اسٹیٹ طرز کا حل نکال کر عرب دنیا کو چوکنا کر دیا تو گرین لینڈ پر نظریں جما کر یورپ کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر ڈالا۔ امریکا کا سب سے بااعتماد خلیجی ملک متحدہ عرب امارات امریکی سیکورٹی سسٹم پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے دوڑا دوڑا بھارت جا پہنچا اور ایک اہم ترین دفاعی اور تجارتی معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا۔ یورپ کے بڑھتے ہوئے احساس ِ عدم تحفظ نے یورپی یونین کو بھارت کے ساتھ دوعشروں پر محیط گفت وشنید کو ایک ایسے معاہدے پر مجبور کیا جسے دونوں نے مادرآف آل ڈیلز قرار دیا۔ برطانیہ جو پورپ کا اہم ملک تھا کے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر چین جا پہنچے اور جہاں انہوں نے طویل المدتی معاہدات کیے۔ کئیر اسٹارمر نے چین میں پیش کیے جانے والے گارڈ آف آنر کا جواب کمر جھکا دیا جس پر یہ تبصرہ ہوا کہ برطانوی وزیر اعظم نے تسلیم کرلیا ہے کہ طاقت کا مرکز تبدیل ہو گیا ہے۔ گویا کہ یہ چین کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ایک ادا تھی۔ یہی نہیں شام کے صدر محمد الشرح امریکا کے ساتھ قبول وایجاب کے اچھے پس منظر کے باوجود ماسکو پہنچ گئے۔ برکس کے بعد یورپی یونین نے بھی نو بلین ڈالر مالیت کے امریکی سودی بانڈز فروخت کر دیے حالانکہ ٹرمپ ایسا نہ کرنے کی دھمکی دے چکے تھے۔ جس دن امریکا کو بانڈز نے بیچنے کی دھمکی دی اس کے دوسرے ہی روز یورپی یونین نے یہ بانڈز فروخت کرکے امریکا کو جیو پولٹیکل پیغام دیا۔ ڈنمارک نے یورپی یونین کا رکن ہے۔ ڈنمارک کے ادارے ڈینش پنشن نے ایک سوملین ڈالر کے امریکی بانڈز فروخت کر دیے۔ مجموعی طور پر یورپی ملکوں نے 8.

9 بلین ڈالر کے بانڈز فروخت کر دیے۔

یورپی یونین کے اس فیصلے کو معاشی کے بجائے سیاسی کہا جا رہا ہے۔ جس کی وجوہات میں قانون کی حکمرانی سیاسی عدم استحکام اور امریکی خارجہ پالیسی کا رویہ قرار دیا جارہا ہے۔ اس طرح ڈالر کو ضربات لگانے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے یورپ کو گرین لینڈ اور ٹیرف کے معاملے پر جو جھٹکا دیا ہے اس نے فریقین کے درمیان بد اعتمادی کی ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس کو گرانا اب آسان نہیں ہوگا۔ آئندہ اگر ڈالر منافع بخش بھی ہوگا تب بھی یورپ اسے محفوظ اثاثہ نہیں سمجھے گا۔ یورپی یونین پنشن فنڈ نے ڈالر کو ہمیشہ خطرے سے خالی سمجھ کر سرمایہ کاری کی تھی۔ اب اس کی فروخت سے دس سالہ روایت اور سوچ کی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ گرین لینڈ پر شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد یورپی یونین نے امریکا کے 1.6 ٹریلین ڈالر کے امریکی قرضے بھی روک دیے ہیں۔ پہلی بار ناٹو نے امریکا کے بغیر فوجی مشقوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ اْدھر کینیڈا کے وزیر اعظم کارنی بلنٹی نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکا البریٹا کی علٰیحدگی کی تحریک سے دور رہے اور کینیڈا کی سالمیت کا خیال رکھے۔ ایسے میں امریکی ماہر معیشت پیٹر شیف نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی ڈالر کا بلبلہ پھٹنے والا ہے۔ دنیا اب امریکا کے قالین کے نیچے سے نکل رہی ہے۔ ڈالر گرنے جا رہا ہے سونا اس کی جگہ لے رہا ہے۔ مرکزی بینک سونا خرید رہے ہیں۔ ڈالر سے چھٹکارہ حاصل کیا جارہا ہے۔ ہم ایک بار پھر مالیاتی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس عالمی مالیاتی بحران سے باقی دنیا فائدہ اْٹھانے جا رہی ہے۔ بس بلبلہ ڈالر میں ہے۔ یہ وہی امریکی ماہر معیشت ہیں جنہوں نے جون 2008 کے مالیاتی بحران کی پیش گوئی کر کے خصوصی شہرت حاصل کی تھی۔ گوکہ امریکا نے بہت سے بحرانوں اور طوفانوں کے مقابلے کی محیر العقول منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور وہ فوری طور پر کسی بڑی مشکل میں پڑنے والا نہیں مگر ٹرمپ کی متلون مزاجی نے امریکا کو پہلی پوزیشن سے دوسری کی جانب دھکیلے جانے کا عمل کچھ تیز کر دیا ہے۔

عارف بہار سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یورپی یونین امریکا کا امریکا کے امریکا کو دنیا میں یونین نے رہے ہیں کے ساتھ رہی ہے ہے اور کے بعد رہا ہے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران