کیا دنیا میں کچھ ’’بڑا‘‘ ہونے والاہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260206-03-6
دنیا میں ایک بار پھر اسی کی دہائی کے اواخر کا سا منظر پیش کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر اس قسم کا ارتعاش اس سے پہلے اسی وقت دیکھا گیا جب سردجنگ اختتام کو پہنچ رہی تھی اور دنیا کا ایک نیا نقشہ تشکیل پا رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ڈربہ کھل گیا ہے اور مرغیاں اور چوزے اس سے نکل کر حیرت اور استعجاب کی دنیا میں اِدھر اُدھر بھاگے جا رہے ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سیاست میں طوفان برپا کرنے والا ایک اور لمحہ نائن الیون بھی تھا مگر اس سے عالمی سطح پر افراتفری کا یہ منظر نہیں اْبھرا تھا۔ دنیا نے نائن الیون پر امریکا کا موقف من وعن قبول کر لیا تھا اور امریکا کو ہمدردی کے اضافی نمبر مل گئے تھے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی مہر کے ساتھ دنیا میں اپنا سکہ جمانے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس بار کی ہلچل اقتصادی ہے اور ایک بارپھر کرۂ ارض کے ممالک دائیں بائیں بھاگے پھر رہے ہیں۔ یوں لگ رہا کہ امریکا کا معاشی فسوں ٹوٹ رہا ہے۔ 1990 میں ہر روز ایک نئی خبر سننے کو مل رہی تھی کہ سوویت یونین کا فلاح حصہ اعلان آزادی کر رہا ہے۔ سہمے اور ڈرے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل کر ڈوبتے ہوئے سوویت یونین کے کنٹرول کو آخری سلام کرکے نئے راستوں پر چل رہے تھے۔ مشرقی یورپ، وسط ایشیا کا ایک کے بعد دوسرا ملک اپنی راہیں جدا کر رہا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں نے بھی امریکا کے زیر اثر ملکوں کو آج کا ’’مشرقی یورپ‘‘ بنا دیا ہے۔ سب سے حیرت انگیز کروٹ یورپ لے رہا ہے جو امریکا کا قریب ترین اقتصادی اور عسکری اتحادی ہے۔
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ایک فرد کے آنے سے منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ اسی کی دہائی میں سوویت یونین نے سرد جنگ کا آخری معرکہ صدر برزنیف کی قیادت میں لڑا تھا مگر یہی وہ زمانہ تھا جب سوویت معیشت کو بربادی کا گھن لگنا بھی شروع ہو گیا تھا۔ برزنیف کی موت کے بعد آندروپوف سوویت حکمران بنے مگر وہ بھی زیادہ دیر جی نہ سکے اور قرعۂ فال میخائی گورباچوف کے نام نکلا۔ گورباچوف کی آمد تاریخ کے اسٹیج پر اپنے وقت کی عظیم طاقت کا اینٹی کلائمیکس ثابت ہوئی اور وہ اس دیوہیکل عالمی طاقت کے زوال کو آسان بنانے کے سوا کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ آج جب امریکا کے دیرینہ معاشی اور فوجی اتحادی اس کی ٹوکری سے اْچھل اْچھل کر گرتے اور نکلتے جارہے ہیں تو یہ سب ایک فرد کا کمال ہے اور اس فرد کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ دنیا میں لالی ووڈ کی اداکاراؤں کی طرح نمبر ون کی دوڑ لگی ہے۔ امریکا چین کے لیے ڈرائیونگ سیٹ خالی نہیں کر رہا اورچین اب اپنے پر پرزے اس قدر نکال چکا ہے کہ وہ اس ڈرائیونگ سیٹ کو اپنا حق سمجھ رہا ہے۔ اس کشمکش میں امریکا کے روایتی اتحادی اپنا مدار بدل رہے ہیں تو حالات امریکا کو نمبر دو بننے کا حقیقت پسندانہ فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کر تے دکھائی دے رہے ہیں مگر اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے مسئلے کا ایک رئیل اسٹیٹ طرز کا حل نکال کر عرب دنیا کو چوکنا کر دیا تو گرین لینڈ پر نظریں جما کر یورپ کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر ڈالا۔ امریکا کا سب سے بااعتماد خلیجی ملک متحدہ عرب امارات امریکی سیکورٹی سسٹم پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے دوڑا دوڑا بھارت جا پہنچا اور ایک اہم ترین دفاعی اور تجارتی معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا۔ یورپ کے بڑھتے ہوئے احساس ِ عدم تحفظ نے یورپی یونین کو بھارت کے ساتھ دوعشروں پر محیط گفت وشنید کو ایک ایسے معاہدے پر مجبور کیا جسے دونوں نے مادرآف آل ڈیلز قرار دیا۔ برطانیہ جو پورپ کا اہم ملک تھا کے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر چین جا پہنچے اور جہاں انہوں نے طویل المدتی معاہدات کیے۔ کئیر اسٹارمر نے چین میں پیش کیے جانے والے گارڈ آف آنر کا جواب کمر جھکا دیا جس پر یہ تبصرہ ہوا کہ برطانوی وزیر اعظم نے تسلیم کرلیا ہے کہ طاقت کا مرکز تبدیل ہو گیا ہے۔ گویا کہ یہ چین کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ایک ادا تھی۔ یہی نہیں شام کے صدر محمد الشرح امریکا کے ساتھ قبول وایجاب کے اچھے پس منظر کے باوجود ماسکو پہنچ گئے۔ برکس کے بعد یورپی یونین نے بھی نو بلین ڈالر مالیت کے امریکی سودی بانڈز فروخت کر دیے حالانکہ ٹرمپ ایسا نہ کرنے کی دھمکی دے چکے تھے۔ جس دن امریکا کو بانڈز نے بیچنے کی دھمکی دی اس کے دوسرے ہی روز یورپی یونین نے یہ بانڈز فروخت کرکے امریکا کو جیو پولٹیکل پیغام دیا۔ ڈنمارک نے یورپی یونین کا رکن ہے۔ ڈنمارک کے ادارے ڈینش پنشن نے ایک سوملین ڈالر کے امریکی بانڈز فروخت کر دیے۔ مجموعی طور پر یورپی ملکوں نے 8.
یورپی یونین کے اس فیصلے کو معاشی کے بجائے سیاسی کہا جا رہا ہے۔ جس کی وجوہات میں قانون کی حکمرانی سیاسی عدم استحکام اور امریکی خارجہ پالیسی کا رویہ قرار دیا جارہا ہے۔ اس طرح ڈالر کو ضربات لگانے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے یورپ کو گرین لینڈ اور ٹیرف کے معاملے پر جو جھٹکا دیا ہے اس نے فریقین کے درمیان بد اعتمادی کی ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس کو گرانا اب آسان نہیں ہوگا۔ آئندہ اگر ڈالر منافع بخش بھی ہوگا تب بھی یورپ اسے محفوظ اثاثہ نہیں سمجھے گا۔ یورپی یونین پنشن فنڈ نے ڈالر کو ہمیشہ خطرے سے خالی سمجھ کر سرمایہ کاری کی تھی۔ اب اس کی فروخت سے دس سالہ روایت اور سوچ کی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ گرین لینڈ پر شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد یورپی یونین نے امریکا کے 1.6 ٹریلین ڈالر کے امریکی قرضے بھی روک دیے ہیں۔ پہلی بار ناٹو نے امریکا کے بغیر فوجی مشقوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ اْدھر کینیڈا کے وزیر اعظم کارنی بلنٹی نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکا البریٹا کی علٰیحدگی کی تحریک سے دور رہے اور کینیڈا کی سالمیت کا خیال رکھے۔ ایسے میں امریکی ماہر معیشت پیٹر شیف نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی ڈالر کا بلبلہ پھٹنے والا ہے۔ دنیا اب امریکا کے قالین کے نیچے سے نکل رہی ہے۔ ڈالر گرنے جا رہا ہے سونا اس کی جگہ لے رہا ہے۔ مرکزی بینک سونا خرید رہے ہیں۔ ڈالر سے چھٹکارہ حاصل کیا جارہا ہے۔ ہم ایک بار پھر مالیاتی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس عالمی مالیاتی بحران سے باقی دنیا فائدہ اْٹھانے جا رہی ہے۔ بس بلبلہ ڈالر میں ہے۔ یہ وہی امریکی ماہر معیشت ہیں جنہوں نے جون 2008 کے مالیاتی بحران کی پیش گوئی کر کے خصوصی شہرت حاصل کی تھی۔ گوکہ امریکا نے بہت سے بحرانوں اور طوفانوں کے مقابلے کی محیر العقول منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور وہ فوری طور پر کسی بڑی مشکل میں پڑنے والا نہیں مگر ٹرمپ کی متلون مزاجی نے امریکا کو پہلی پوزیشن سے دوسری کی جانب دھکیلے جانے کا عمل کچھ تیز کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین امریکا کا امریکا کے امریکا کو دنیا میں یونین نے رہے ہیں کے ساتھ رہی ہے ہے اور کے بعد رہا ہے
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔