کشمیر پاکستان کا حصہ تھا لیکن ہندوستان نے اس پرغاصبانہ قبضہ کر لیا ،ایم کیو ایم
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260206-8-7
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم پاکستان ڈسٹرکٹ حیدرآباد کے آرگنائزر و اراکین ڈسٹرکٹ کمیٹی، حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبل نے اپنے مشترکہ بیان میں کشمیر ڈے پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی کشمیر پاکستان کا حصہ تھا لیکن ہندوستان نے اس پرغاصبانہ قبضہ کر لیا ،پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے اور کشمیر کی آزادی کے لئے ہندوستان کے ظلم و ستم کشمیریوں نے سہے ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن رنگ لائیگی ،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی کیسے اپنی شہ رگ دشمن کے ہاتھ میں دے سکتا ہے ۔ہندوستان جتنا چاہے کشمیریوں پر ظلم کرے لیکن کشمیری اپنی آزادی کے حق سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ،ہم کشمیریوں پر ظلم و جبر کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کیلیے پاکستانی عوام اپنے کشمیر بھائیوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کے معاملے پر دوغلے پن کاثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں آج تک نہ اپنی قرادادوں پر عمل کرواسکا بلکہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پربھی کوئی ایکشن نہیں لیا ،کشمیری عوام 71سال سے ہندوستان کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور ہزاروں لاکھوں افراد مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلیے اپنی جانیں قربان کرکے ایک تاریخ رقم کی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کشمیر کے معصوم عوام کو ہندوستان کے ظلم و ستم سے نجات دلائیں اور انہیں حق خودارادیت کا حق دیں پاکستانی عوام اور ایم کیو ایم انکی جدوجہد کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انکی بھرپور حمایت کرتی ہے کشمیری شہدا کے لئے دعا کرتے ہیں کہ انکا لہو ایک دن رنگ لاِئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔