WE News:
2026-07-24@02:34:58 GMT

پاکستان کا پیچا!

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

پتنگ بازی کا کبھی شوق نہیں رہا۔ کچھ سالوں سے دل ہلے گلے پر بھی مائل نہیں ہوتا۔ بڑی سے بڑی تفریح دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھانا یا سونے سے چند لمحے پہلے فیس بک دیکھنا ہوتا ہے۔

وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے چند ماہ پہلے بسنت کا اعلان کیا تو سوچا کہ یہ بھی تخت لاہور کے کئی سابق فرماں رواؤں کی طرح عوام کے حقیقی مسائل اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو بوکاٹا کے شور میں دبانے کی اپنی سی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ تو خیر اب بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ بسنت منانے کے پیچھے جہاں دیگر بہت سی وجوہات تھیں وہاں ایک یہ بھی تھی کہ 8 فروری کے احتجاج کو بسنت کی مضبوط ڈور سے کاٹ دیا جائے اور عوام کے لیے رونق میلہ لگا کر اپنی حکومت کی دھاک بٹھانے کی راہ نکالی جائے۔

یہ اور بات کہ پی ٹی آئی کے ترچھے دماغ اس ایونٹ پر بھی کچھ الگ کر کے اپنا آپ منوانے کے اچھوتے خیالات ترتیب دے رہے ہیں اور شاید کسی نہ کسی آسمان پر اپنی پتنگیں اڑانے میں کامیاب ہو ہی جائیں۔

لیکن جو سماں پنجاب حکومت نے لاہور میں باندھ دیا ہے اور جس انداز سے لاہوریوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے وہ مثالی ہے۔

برسوں بعد ایسا لگا ہے کہ ہمارے پاس بھی خوش ہونے کا کوئی موقع ہے، ہماری ثقافت میں بھی رنگ بھرے ہیں، ہم بھی کسی بات پر مسکرا سکتے ہیں، کھلکھلا سکتے ہیں، گنگنا سکتے ہیں اور محو رقص ہو سکتے ہیں۔

ہمارے ڈھول کی تھاپ، ہمارے پاؤں کے گنگھرو، ہماری چھتوں پر بھنگڑے، ہمارے ریستورانوں میں چانپوں کی خوشبو، ہماری گلیوں میں زرق برق  لباس اور ہمارے آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں نے ہمارے دہائیوں پر مشتمل دکھوں کو کچھ لمحوں کے لیے دیس نکالا دے دیا ہے۔

آج کراچی سے خیبر اور نیلم سے واہگہ تک ہر کوئی بسنت کی بات کر رہا ہے اور ہر کوئی جشن کی بات کر رہا ہے۔

یہ درست ہے کہ ابھی پچھلے ویک اینڈ پر دشمن نے اپنے سینکڑوں زرخوروں کو ہمارے بلوچستان پر حملے کے لیے بھیجا تھا اور بفضل خدا ہم نے ان تمام کو جہنم واصل کیا لیکن اس میں ہماری مٹی کے کچھ بیٹے بھی واری ہو گئے۔

یہ بھی سچ ہے کہ دشمن کے پالتو صوبہ خیبر پختونخوا میں آئے روز دھماکے اور حملے کر کے ہمارا سکون برباد کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور جہالت جیسے مسائل آئے روز ہمیں اپنی لپیٹ میں لیے رکھتے ہیں۔ سیاسی طور پر بھی ہم ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے کے لیے صبح شام تدبیریں کرتے رہتے ہیں۔

لیکن یہ بسنت کا جو رنگ پھیلا ہے اس نے کچھ دنوں کے لیے ہی سہی، سرشاری کا ایک احساس بیدار کیا ہے۔ اس نے اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اپنی زمین پر فخر کرنے کا ایک نیا موقع فراہم کیا ہے۔

حکومت پنجاب اور مریم نواز نے جس طرح سے لاہور کو سجایا ہے، اور جس طرح ملک بھر سے لوگ جوق در جوق لاہور کا رخ کر رہے ہیں اس نے وقتی طور پر تمام مسائل بھلا دیے ہیں۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن جماعت تحریک انصاف جہاں احتجاج سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں وہیں اس نے بسنت کی مخالفت بھی نہیں کی۔ اس کی وجہ بے شک سیاسی ہی کیوں نہ ہو لیکن اس نے عوام کو خوش ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اور احتجاج کے ساتھ بسنت منانے اور بسنت کو اپنی آواز اٹھانے کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کر کے میچورٹی کا ثبوت دیا ہے۔

بلاشبہ مریم نواز اور ان کی حکومت بسنت کے انعقاد پر کریڈٹ اور مبارکباد کی مستحق ہیں لیکن پی ٹی آئی کے اس طرز عمل کو بھی سراہے جانے کی ضرورت ہے جس نے عوام کی خوشی میں رکاوٹ ڈالنے سے اجتناب کیا ہے۔

البتہ عمران خان کی تصاویر اور 804 نمبر والی گڈیاں بنانے، پکڑنے اور اڑانے کا جو پیچا حکومتی اداروں اور پی ٹی آئی متوالوں میں پڑا ہوا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے اور جشن کے اس ماحول میں ذرا مختلف رنگ کا اضافہ کر رہی ہے۔

بحیثیت مجموعی اس وقت لاہور اور اس کی گلیاں پاکستانیوں کو برسوں بعد پاکستانی ثقافت پر فخر کرنے اور مخمور ہونے کا موقع فراہم کر رہی ہیں جو کہ انتہائی عمدہ ہے۔

ایک اور اچھی خبر آج پشاور سے بھی آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کور کمانڈر ایک میز پر بیٹھے ہیں اور انہوں نے مل کر دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کا عہد کیا ہے۔

اللہ تعالٰی میرے وطن میں ہر روز ایسے مواقع لائے جہاں ہم دشمن کے ارادے خاک میں ملانے کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں اور خوشیاں منانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔

ہمیں اپنے آسمان کو رنگنے کے لیے ایک دوسرے کی پتنگیں کاٹنے کی ضرورت نہیں بلکہ مل جل کر اپنے وطن کی ڈور کو اتنا مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو اس کو اقوام عالم کے آسمان پر سب سے اونچا اڑائے۔

سب کو جشن بسنت مبارک!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خرم شہزاد

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سکتے ہیں کے لیے دیا ہے کیا ہے یہ بھی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف