لاہور کی فضا میں بہار، ہر چھت پر جشن، بسنت فیسٹیول کا دھوم دار آغاز
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور:
لاہور ایک بار پھر بسنت کے جادو میں ڈوب گیا رات ٹھیک بارہ بجتے ہی تین روزہ بسنت فیسٹیول کا باقاعدہ آغاز ہوا اور شہر کے آسمان پر ستاروں کی جگہ رنگ برنگی پتنگوں نے ڈیرے ڈال لیے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے دہلی گیٹ کی چھت پر پتنگ اُڑا کر جشن بسنت کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی چھتوں پر قہقہے، ڈھول کی تھاپ اور بوکاٹا کے نعرے گونجنے لگے۔
لاہور کی فضا خوشی اور رنگوں سے بھر گئی۔ نوجوان چھتوں سے پتنگیں اُڑاتے رہے جبکہ اڑتی اور کٹتی پتنگوں کو دیکھنے کے لیے منچلے سڑکوں پر نکل آئے۔
بسنت کی رونق میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں؛ ہاتھوں پر مہندی، رنگین ملبوسات اور ذائقہ دار پکوانوں کے ساتھ بہار کا شاندار استقبال کیا گیا کئی خواتین خود بھی پتنگ تھامے چھتوں پر موجود نظر آئیں۔
شہر کی گلیاں اور سڑکیں پتنگوں سے سجی دکھائی دیں جبکہ مہنگائی کے باوجود پتنگ اور ڈور کی مانگ عروج پر رہی اور کئی علاقوں میں نایاب ہو گئی۔
بسنت کے موقع پر لاہور سفاری زو کو رنگ برنگی پتنگوں سے سجا دیا گیا
بسنت کے دن آسمان بانی پی ٹی آئی کی پتنگوں سے بھر جائے گا، علیمہ خان
لاہور؛ بسنت کے دوران پروازوں کو محفوظ رکھنے کیلئے اہم حکم نامہ جاری
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے لبرٹی چوک کا دورہ کیا شہریوں سے ملاقات کی اور موٹر سائیکل سواروں کو حفاظتی راڈ لگانے کی ہدایت کی۔
شہریوں نے بسنت کی بحالی پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو سراہا۔
بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہریوں کی سہولت کے لیے مختلف روٹس پر خصوصی بس سروس چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق پورا شہر خصوصی ٹرانسپورٹ کے ذریعے کور کیا جائے گا۔
ادھر مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ذیشان ملک اندرونِ شہر پہنچے جہاں انہوں نے لیگی کارکنوں کے ہمراہ پتنگ اُڑا کر جشن کا آغاز کیا۔ ان کی آمد پر کارکنوں نے پُرجوش نعرے لگائے جبکہ ذیشان ملک نے بھی روایتی بوکاٹا کے نعروں کے ساتھ جشنِ بہاراں کو بھرپور انداز میں انجوائے کیا۔
اندرونِ شہر کی چھتوں کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور مہمانوں کے لیے خصوصی پکوانوں کا اہتمام کیا گیا، جس سے بسنت کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بسنت کے کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔