ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰ دہرادیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہی دن میں 2 مرتبہ یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوا دی تھی۔
نیشنل پریئر بریک فاسٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایک سال کے دوران دنیا بھر میں 8 بڑی اور شدید جنگوں کا خاتمہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نوبیل انعام کے لیے پھر مچل گئے، پاک بھارت جنگ بندی کا تذکرہ دوبارہ چھیڑ دیا
ان کے مطابق ان جنگوں میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ، کوسوو اور سربیا، پاکستان اور بھارت، اسرائیل اور ایران، اور آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازعات شامل تھے۔
بعد ازاں، اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کو پھوٹنے سے روکا۔
Trump claims twice in a day that he stopped war between India, Pakistan, again.
Clearly, not a part of the agreement this week.???? https://t.co/kgkQH222Lb
— Suhasini Haidar (@suhasinih) February 6, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے اور ان کی پہلی صدارت کے دوران امریکی فوج کو مکمل طور پر ازسرِنو تعمیر کیا گیا، جس میں نئے اور جدید جوہری ہتھیار بھی شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسپیس فورس کا قیام عمل میں لایا اور اب بھی امریکی فوج کو ایسی سطح تک مضبوط کیا جا رہا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت جنگ روکنے کا 57ویں مرتبہ تذکرہ، ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ کسی بھی تعاون کا امکان مسترد کردیا
ان کے بقول، امریکا دوسری جنگِ عظیم کے دور کے جنگی بحری جہازوں، جیسے آئیووا اور میزوری، سے کہیں زیادہ طاقتور نئے جنگی جہاز بھی شامل کر رہا ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں ایٹمی جنگوں کو روکنے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت، ایران اور اسرائیل، اور روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ تصادم شامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر اب تک 90 سے زائد مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع رکوا دیا، وہ یہ مؤقف مسلسل مختلف عالمی اور امریکی فورمز پر دہراتے آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر چھیڑ دیا
خاص طور پر 10 مئی کے بعد، جب انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والی طویل بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
تاہم، بھارت کی جانب سے مسلسل اس بات کی تردید کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی قسم کی جنگ بندی یا مذاکرات میں کسی تیسرے فریق نے کردار ادا کیا ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایٹمی جنگ ایران بریک فاسٹ بھارت پاکستان پلیٹ فارم ثالثی ٹروتھ سوشل ڈونلڈ ٹرمپ روس سوشل میڈیا نیشنل پریئر واشنگٹن یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایٹمی جنگ ایران بریک فاسٹ بھارت پاکستان پلیٹ فارم ثالثی ٹروتھ سوشل ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا واشنگٹن یوکرین پاکستان اور بھارت کے درمیان پاک بھارت جنگ کہ انہوں نے ٹرمپ نے ایک ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔