بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن ردّالفتنہ کے نمایاں ثمرات، علاقے کے بدنام دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن ردّالفتنہ کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں علاقے کے بدنام دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر نے ریاستِ پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے سیکیورٹی فورسز اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے بھائی میر آفتاب بگٹی کی مشترکہ کوششیں کامیاب ہوئیں، جس کے نتیجے میں دہشت گردی، لوٹ مار اور بھتہ خوری میں ملوث ایک گروہ نے سرنڈر کر دیا۔
ذرائع کے مطابق میراک خان چکرانی نے اپنے 25 ساتھیوں سمیت ریاست کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے اسلحہ رکھ دیا۔ سرنڈر کرنے والا گروہ ماضی میں ڈکیتی اور بھتہ خوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
سرنڈر کرنے والے عناصر نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی حکام کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر میراک خان چکرانی نے شدت پسند عناصر کے خلاف چکرانی امن فورس میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ریاست کے ساتھ مل کر علاقے میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں گے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن ردّالفتنہ کی مؤثر حکمت عملی کے باعث بلوچستان کے دیگر شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر بھی جلد ریاست کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت صوبے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔