بلوچستان :آپریشن رد الفتنہ مکمل ‘بدنام دہشت گرد وں نے ہتھیار ڈال دئیے‘216ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نمائندہ خصوصی) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ- ون کامیابی سے مکمل کرلیا جس کے نتیجے میں 216 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ-1 کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ آپریشن کے تحت بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط، تیز رفتار اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کی گئیں۔ 29 جنوری کو مصدقہ اور قابل اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پنجگور اور ضلع ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں آپریشنز کا آغاز کیا گیا۔ بھارتی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ سکیورٹی فورسز کے جرات مندانہ اور پرعزم ردعمل نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے آپریشن ردالفتنہ-1 کے تحت فیصلہ کن اور مؤثر کارروائیاں کیں۔ اس دوران 216 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ آپریشن کے دوران غیر ملکی ساختہ اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیگر آلات کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ ابتدائی معلومات سے دہشت گردوں کو منظم بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شہید ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے وطن کے دفاع میں جام شہادت نوش کیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آپریشن ردالفتنہ-1 اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے غیور عوام ہمیشہ تشدد پر امن، انتشار پر اتحاد اور بدامنی پر ترقی کو ترجیح دیتے رہیں گے۔ دریں اثنا صدر مملکت اور وزیراعظم نے کامیاب آپریشن پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن ردالفتنہ کے ثمرات سامنے آنے لگے۔ بدنام دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے سکیورٹی فورسز اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے بھائی میر آفتاب بگٹی کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ بلوچستان میں دہشتگردی، لوٹ مار اور دیگر جرائم پیشہ عناصر نے ریاست پاکستان کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ میراک خان چکرانی نے 25 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دئیے۔ سرنڈر کرنے والا گروہ ماضی میں ڈکیتی اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث رہا۔ سرینڈر کرنے والے عناصر نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی جمع کرایا۔ میراک خان چکرانی نے شدت پسند عناصر کے خلاف چکرانی امن فورس میں شمولیت کا بھی اعلان کیا۔ آپریشن ردالفتنہ کی بہترین حکمت عملی سے بلوچستان کے دیگر شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر بھی جلد ریاست کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا پریشن ردالفتنہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔