خیبر پختونخوا: سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں، بھارتی پراکسی کے 24 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
خیبر پختون خوا میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ 2 الگ الگ جھڑپوں کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 خوارج مارے گئے۔
مسلح افواج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 4 اور 5 فروری کو خیبر پختون خوا میں 2 الگ جھڑپیں ہوئیں، ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات پر سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اورکزئی میں آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔
علاوہ ازیں ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تین دنوں سے جاری دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں فتنہ ہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دیگر بھارتی زیرِسرپرست خوارج کے خلاف سرچ آپریشن بھی کیا گیا، ان کلیئرنس آپریشنز کا مقصد باقی دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی مہم وژن عزمِ استحکام کے تحت جاری ہے، بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف فورسز کا فیصلہ کُن کریک ڈاؤن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز آئی ایس پی آر کے مطابق
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔