Jang News:
2026-06-02@23:38:46 GMT

بانیٔ پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

بانیٔ پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش

— فائل فوٹو

اڈیالا جیل حکام نے بانیٔ پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں پیش کردی۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالا جیل جماعت علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بانیٔ پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان پرزن رولز کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کرایا گیا ہے۔ بشریٰ بی بی اور بانیٔ پی ٹی آئی کو جیل رولز کے مطابق میڈیکل کی تمام سہولتیں دی جارہی ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کے معائنے اور ٹیسٹ کی تصدیق

ڈاکٹر عمران سکندر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کچھ روز قبل دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت کی تھی جس پر سینئر ڈاکٹر نے اڈیالہ جیل میں ان کا معائنہ کیا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل عدالت نے رپورٹ پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ جیل کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھیجا تھا۔

عدالت نے آج اڈیالہ جیل حکام سے بانیٔ پی ٹی آئی کی رپورٹ طلب کی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پمز اسپتال اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے بانیٔ پی ٹی آئی کے علاج کی تفصیلات بتائی تھیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی رگوں میں دباؤ کی وجہ سے بینائی پر اثر ہوا، سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم نے بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد ڈسچارج کردیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کی

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے