افغان طالبان کے اقتدار میں انصاف، بنیادی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوچکی: ہیومن رائٹس واچ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
نیویارک(این این آئی) ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ورلڈ رپورٹ 2026 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے اقتدار میں انصاف، بنیادی حقوق اور آزادیوں کی صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے، جس سے ملک میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق افغانستان میں جسمانی سزائیں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ سول سوسائٹی، صحافیوں اور اقلیتی برادریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان نے خواتین پر عائد پابندیوں، تشدد اور بنیادی حقوق کی معطلی کے ذریعے انہیں عملی طور پر ریاستی نظام سے باہر کر دیا ہے، جس کے باعث خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا تھا کہ طالبان کی ناقص حکمرانی نے افغان عوام کو شدید معاشی اور سماجی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی داخلی ناکامیاں نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔رپورٹ اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کی پالیسیاں سرحدی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں، جن پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔