امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی حد بندی کا معاہدہ ختم
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرنے والا اہم عالمی معاہدہ نیو اسٹارٹ آج 5 فروری کو باقاعدہ طور پر ختم ہو گیا، جس کے بعد دونوں ممالک اب اس معاہدے کے دائرہ کار میں کسی بھی پابندی کے بغیر آزادانہ فیصلے کر سکتے ہیں، معاہدے میں توسیع یا کسی متبادل ڈھانچے پر دونوں فریقوں کے درمیان کوئی باہمی اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے اس سلسلے میں کہا کہ روس اسٹریٹیجک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی ذرائع کے ذریعے اقدامات کرنے پر پُرعزم ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ نیو اسٹارٹ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک آزاد ہیں کہ آئندہ جوہری پالیسی اور ہتھیاروں کی تعداد کا تعین خود کریں۔
معاہدے کے خاتمے سے ایک دن قبل روسی وزارتِ خارجہ نے جاری کیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ اب امریکا اور روس کسی بھی ذمہ داری کے پابند نہیں رہیں گے اور مستقبل کے اقدام ان کے اختیار میں ہوں گے۔ اس اقدام کے بعد عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے توازن اور سکیورٹی کی صورتحال پر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پایا تھا اور اس کے تحت امریکا اور روس جوہری وار ہیڈز اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تعداد محدود رکھنے کے پابند تھے۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے کا خاتمہ عالمی امن اور اسٹریٹیجک استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطوں میں کشیدگی اور عسکری حریفانہ رویے شدت اختیار کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے فوری طور پر امریکا اور روس سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد نئے جوہری معاہدے پر دستخط کریں تاکہ عالمی سطح پر جوہری خطرات اور خدشات کو کم کیا جا سکے۔ عالمی ماہرین کے مطابق اس موقع پر شفاف مذاکرات اور بین الاقوامی ثالثی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے جوہری ہتھیاروں کے غیر محدود استعمال کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔
ماہرین بین الاقوامی تعلقات کے مطابق، نیو اسٹارٹ معاہدے کا خاتمہ صرف امریکا اور روس تک محدود اثر نہیں رکھتا، بلکہ اس کے اثرات عالمی جوہری پالیسی، خطوں میں عسکری توازن اور بین الاقوامی سکیورٹی فورمز میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جوہری ہتھیاروں امریکا اور روس بین الاقوامی نیو اسٹارٹ کے درمیان کے مطابق
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔