تہران:ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے التواء سے متعلق گردش کرنے والی تمام افواہیں دم توڑ گئیں جب دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی کہ مذاکرات جمعے کی صبح 10 بجے مسقط میں ہی ہوں گے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ جوہری امور پر بات چیت طے شدہ وقت کے مطابق عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوگی۔

Nuclear talks with the United States are scheduled to be held in Muscat on about 10 am Friday.

I'm grateful to our Omani brothers for making all necessary arrangements.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) February 4, 2026


انہوں نے مذاکرات کے انعقاد کے لیے سہولیات فراہم کرنے پر عمان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا جس سے مسقط کے سفارتی کردار کو ایک بار پھر عالمی اہمیت حاصل ہو گئی۔

دوسری جانب دو سینیئر امریکی عہدیداروں نے بھی امریکی میڈیا سے گفتگو میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات عمان میں ہی ہوں گے یوں قیاس آرائیوں پر پردہ ہمیشہ کے لیے گر گیا۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیہ کے شہر استنبول میں شیڈول تھے تاہم ایران کی جانب سے اچانک مقام کی تبدیلی کا مطالبہ سامنے آیا جس کے بعد مذاکرات کو عمان منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ایران نے نہ صرف مقام کی تبدیلی پر زور دیا بلکہ یہ شرط بھی رکھی کہ مذاکرات میں کسی علاقائی شراکت دار کو شامل نہ کیا جائے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے۔

تاہم ان مطالبات کو امریکا نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا یا نہیں اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکا کے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟