جوہری مذاکرات عمان میں ہونگے: ایران امریکا سے موقف منوانے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ایران نے امریکا کو مذاکرات ترکیہ سے عمان منتقل کرنے کیلئے رضا مند کر لیا جو کہ واشنگٹن کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں تہران کی بڑی کامیابی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بڑا فیصلہ کیا ہے، ایران نے دوطرفہ مذاکرات ترکیہ سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اب جمعہ کے روز عمان میں ہوں گے، جس کیلئے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیاری مکمل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔