بہتر مستقبل،پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک منتقل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:پاکستان کی خراب معاشی صورتحال اور روزگار کے مواقع میں کمی کے باعث بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران 2 لاکھ 89 ہزار 265 پاکستانی شہری برطانیہ روانہ ہوئے۔
وزارت داخلہ کے مطابق سال 2021 میں 24 ہزار 905 جبکہ 2022 میں 51 ہزار 506 پاکستانی شہری برطانیہ گئے۔
2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 79 ہزار 561 ہو گئی، جبکہ 2024 میں 62 ہزار 593 افراد نے برطانیہ کا رخ کیا۔ سال 2025 کے دوران 70 ہزار 700 پاکستانی شہری برطانیہ روانہ ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں اسٹڈی ویزا پر 86 ہزار 976 پاکستانی طلبہ برطانیہ گئے، جو تعلیمی مقاصد کے لیے ملک چھوڑنے والوں کی بڑی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح ٹورسٹ ویزا پر 37 ہزار 749 پاکستانی شہری برطانیہ روانہ ہوئے، جبکہ 2021 سے 2025 کے دوران مجموعی طور پر وزٹ ویزا پر جانے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 1 لاکھ 33 ہزار 566 رہی۔
وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں ورک ویزا پر برطانیہ جانے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 30 ہزار 974 ہے، جو ملک میں روزگار کے محدود مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی ہجرت نہ صرف افرادی قوت کے انخلا کا باعث بن رہی ہے بلکہ یہ رجحان ملکی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستانی شہری برطانیہ پاکستانی شہریوں کی کے مطابق ویزا پر
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔