data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:پاکستان کی خراب معاشی صورتحال اور روزگار کے مواقع میں کمی کے باعث بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے۔

 وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران 2 لاکھ 89 ہزار 265 پاکستانی شہری برطانیہ روانہ ہوئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق سال 2021 میں 24 ہزار 905 جبکہ 2022 میں 51 ہزار 506 پاکستانی شہری برطانیہ گئے۔

 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 79 ہزار 561 ہو گئی، جبکہ 2024 میں 62 ہزار 593 افراد نے برطانیہ کا رخ کیا۔ سال 2025 کے دوران 70 ہزار 700 پاکستانی شہری برطانیہ روانہ ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں اسٹڈی ویزا پر 86 ہزار 976 پاکستانی طلبہ برطانیہ گئے، جو تعلیمی مقاصد کے لیے ملک چھوڑنے والوں کی بڑی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح ٹورسٹ ویزا پر 37 ہزار 749 پاکستانی شہری برطانیہ روانہ ہوئے، جبکہ 2021 سے 2025 کے دوران مجموعی طور پر وزٹ ویزا پر جانے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 1 لاکھ 33 ہزار 566 رہی۔

وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں ورک ویزا پر برطانیہ جانے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 30 ہزار 974 ہے، جو ملک میں روزگار کے محدود مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی ہجرت نہ صرف افرادی قوت کے انخلا کا باعث بن رہی ہے بلکہ یہ رجحان ملکی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستانی شہری برطانیہ پاکستانی شہریوں کی کے مطابق ویزا پر

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی