روس اور یوکرین میں 300 سے زائد قیدیوں کا تبادلہ، جنگ کے خاتمے پر ڈیڈلاک برقرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 300 سے زائد جنگی قیدیوں کا تبادلہ کر لیا ہے، تاہم اس پیش رفت کے باوجود جنگ کے خاتمے یا جنگ بندی سے متعلق کسی بڑے معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا، روس اور یوکرین کے وفود کے درمیان ابوظبی میں 2 روزہ مذاکرات ہوئے، جن میں بنیادی طور پر انسانی بنیادوں پر قیدیوں کے تبادلے پر توجہ دی گئی۔ امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یہ 5 ماہ بعد ہونے والا پہلا بڑا قیدی تبادلہ ہے، جسے ایک اہم انسانی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی نمائندے کے مطابق مجموعی طور پر 314 قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا، بعد ازاں روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک نے 157،157 قیدیوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا۔ اس تبادلے کو بین الاقوامی سطح پر مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی اور عسکری اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
اسٹیو وِٹکوف نے مذاکرات کو تفصیلی اور نسبتاً مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کچھ معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، مگر جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی بھی اہم اور مشکل فیصلے درکار ہیں۔ روسی مذاکرات کار کریل دمتریف نے بھی بعض امور میں پیش رفت کا دعویٰ کیا، تاہم ان کے بیانات سے کسی بڑی پیش رفت کا عندیہ نہیں ملا۔
مذاکرات کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملے جاری رہے، جس کے نتیجے میں شدید سردی کے دوران کیف اور دیگر علاقوں میں بجلی اور حرارت کی فراہمی متاثر ہوئی۔
یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے اعتراف کیا ہے کہ فروری 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ روس نے اپنے جانی نقصانات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ جب تک کیف کی جانب سے روسی مطالبات پر سنجیدہ فیصلے نہیں کیے جاتے، جنگ جاری رہے گی۔ روس مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے سے یوکرینی فوج کے انخلا اور قبضہ شدہ علاقوں کو روسی علاقہ تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ یوکرین موجودہ محاذی لائن پر جنگ کو منجمد کرنے کا مؤقف رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوکرین کے پیش رفت جنگ کے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز