100 سال سے زائد پرانے زمین کے انتقال کو ریکارڈ میں درج کرنیکی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے 100 سال سے زائد پرانے زمین کے انتقال کو ریکارڈ میں درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
درخواست گزاروں نے 100 سال بعد پہلی بار سن 2020 میں ان انتقالات کو سرکاری ریکارڈ میں درج کرانے کے لیے رجوع کیا۔
آئینی عدالت نے کہا کہ طویل مدت گزرنے کے بعد اب ریکارڈ میں تبدیلی کو محض معمولی غلطی قرار دے کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، ایک صدی کے دوران اس زمین کے کئی نئے مالک بن چکے ہوں گے جن کا حق متاثر ہو سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریونیو افسر کا کام صرف ریکارڈ رکھنا ہے، وہ زمین کی ملکیت کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ریونیو حکام صرف وہی غلطی درست کر سکتے ہیں جس پر کوئی بڑا تنازع نہ ہو، زمین کی اصل ملکیت کا فیصلہ کرنا صرف شواہد ریکارڈ کرکے دیوانی عدالت کا کام ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں سوال اٹھایا کہ درخواست گزاروں کے بزرگ اپنی زندگی میں یا بعد میں 2020 تک خاموش کیوں رہے؟ جب معاملہ پیچیدہ ہو جائے اور شواہد کی ضرورت ہو تو ہائی کورٹ رٹ پٹیشن میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ اور بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔
کیس 1907 اور 1913 کے ان زمین کے انتقالات سے متعلق تھا جن پر اس وقت عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔ درخواست گزاروں کے آباؤ اجداد کے حق میں یہ انتقالات ایک صدی قبل سول کورٹ کی ڈگری پر منظور ہوئے تھے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ریکارڈ میں عدالت نے زمین کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔