پیس بورڈ کے قیام نے مسئلہ کشمیر کو اس اہم فورم پر اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے، مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے خصوصی ویبینار کا اہتمام کیا گیا۔
ویبینار میں سینیئر قانون دان احمر بلال صوفی، سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے شرکت کی۔ تقریب میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے صدر پاکستان، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھے گئے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے ویبینار سے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں معاملات کے حوالے سے پاکستان کا موقف روزِ اول سے واضح ہے، امریکی صدر کی جانب سے پیس بورڈ کے قیام نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر اس اہم فورم پر اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید فلسطینوں کے قتل عام کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کے حوالے سے رائے عامہ میں وا ضح تبدیلی آئی ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں پانچ اگست کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام اور بھارتی قیادت کے بیانات نے چین کو بھی اس مسئلے کا حصہ بنا دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین اور امریکہ کے نقطہ نظر میں مماثلت ہے جو موجودہ حالات میں سودمند ثابت ہوگی۔
ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادیں آج بھی مسلمہ اور قابل اطلاق ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 103 کسی بھی رکن ملک کے ملکی قوانین یا دوطرفہ معاہدات پر فوقیت رکھتا ہے، اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق غاصب افواج کے خلاف مزاحمت اوربیرونی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔
سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ عالمی شہرت یافتہ تاریخ دانوں اور محققین کی رائے میں باقاعدہ سازش کے تحت کشمیری عوام کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق سے محروم کیا گیا، حق خود ارادیت پر مبنی مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سالہا سال سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اطلاق کے منتظر ہیں۔
سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری کا ردعمل قدرے مختلف رہا ہے، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بطور انٹرنیشنل سول رائٹس موومنٹ کے طور پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ تنازعہ کشمیر سے متعلق مقامی اور بین الاقوامی خواندگی کا میعار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ تنازعہ کشمیر اور فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے متن میں مماثلت قابلِ فکر و عمل ہے، ہر سال یوم یکجہتی کشمیر پاکستانی عوام کی اپنے کشمیری بھائیوں سے دلی وابستگی اور حق خود ارادیت کے حصول میں ان کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا مظہر ہے۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور بھارتی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے، سالہا سال سے التوا کا شکار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے کردار اور فعالیت پر سوالیہ نشان ہے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام اور غزہ کی صورتحال کے بعد مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوؤں کا مزید باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پہلو تہی کی پالیسی علاقائی اور عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی مشاہد حسین سید کے حوالے سے کشمیر اور نے کہا کہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔