دہلی میں خطرے کی گھنٹی، 15 دن میں 800 سے زائد افراد لاپتہ ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
بھارتی دارالحکومت دہلی میں لاپتہ افراد کے بڑھتے واقعات نے شہری سلامتی اور ریاستی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جنوری 2026 کے پہلے پندرہ دنوں میں دہلی سے 807 افراد لاپتہ ہوئے، جن میں 509 خواتین شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والوں میں 191 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جس کے باعث دہلی کو خواتین اور بچوں کے لیے غیر محفوظ شہر قرار دیا جا رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد کا لاپتہ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
مزید پڑھیںمودی کی سرپرستی میں بھارت دنیا بھر میں سائبر فراڈ کا گڑھ بن گیا
مودی کی ‘صحت کا راز’؛ پچھلے 25 سال سے روزانہ دو کلو گالیاں کھاتا ہوں، بھارتی وزیراعظم
اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال بھی دہلی سے 24 ہزار 500 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے تھے، جن میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین شامل تھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال شہری سلامتی کے نظام میں مسلسل کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق بھارت کو گزشتہ برسوں میں خواتین کے خلاف جرائم اور جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کے باعث شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، جبکہ دہلی کو بارہا ایسے جرائم کے حوالے سے نمایاں کیا جاتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے بڑھتے واقعات ریاستی نگرانی کی کمی اور ادارہ جاتی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر خواتین اور کمزور طبقات کی سلامتی پر پڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔