پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں یادداشت جمع، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اور ملاقاتوں کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں یادداشت جمع، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اور ملاقاتوں کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کو باضابطہ یادداشت پیش کر دی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ کی فراہمی، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا گیا، جس کے باعث سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر رہنما سپریم کورٹ پہنچے، جہاں شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔
اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس نے پمز اسپتال سے میڈیکل رپورٹ دینے کی بات کی تھی، مگر تاحال رپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب تمام پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ میں یادداشت پیش کریں گے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان افونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ 8 فروری کے احتجاجی پلان سے سب کو آگاہ کیا جا چکا تھا، کسی قسم کا ابہام عدم توجہ کی وجہ سے پیدا ہوا۔انہوں نے واضح کیا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے تمام رہنماؤں کو پلان سمجھا دیا ہے اور 8 فروری کو پرامن احتجاج کیا جائے گا۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی اور دستخط شدہ یادداشت پیش کی۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے تاحال فیملی، وکلا یا کسی اور کی ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ صرف ڈاکٹر سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ تسلی ہو سکے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس کا آئینی فریضہ ہے کہ وہ آئین و قانون کا دفاع کریں۔ ہم نے صرف میڈیکل رپورٹ کا مطالبہ کیا ہے، پوری قوم اس معاملے پر متجسس ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو عوام کو اپنا موقف باور کروایا جائے گا۔
یادداشت جمع کرانے کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا اور ارکان پارلیمنٹ واپس روانہ ہو گئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیاں بیوی میں لڑائی اور بچوں کی حوالگی کا کیس؛ جسٹس محسن اختر کے اہم ریمارکس میاں بیوی میں لڑائی اور بچوں کی حوالگی کا کیس؛ جسٹس محسن اختر کے اہم ریمارکس پاکستان کو 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی: صدرعالمی بینک بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ کے نمایاں نتائج، بدنام دہشت گرد گروہ نے ہتھیار ڈال دیے پختونخوا میں فتنہ الخوارج کیخلاف بھرپور کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 24 خوارج ہلاک جدہ: پاکستان قونصلیٹ میں نئے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ، پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکت بلوچستان میں پائیدار زرعی ترقی اور کسانوں کی معاشی خوشحالی کی سمت اہم پیشرفتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ پی ٹی ا ئی کا مطالبہ کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔