وعدوں کی پاسداری لازم ہے، ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کیساتھ مذاکرات سے قبل باہمی احترام پر زور
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نیک نیتی کے ساتھ سفارتکاری میں داخل ہوا ہے، لیکن اپنے حقوق پر مضبوطی سے قائم رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایران گذشتہ ایک سال کے تجربات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کھلی آنکھوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے قبل باہمی احترام پر زور دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نیک نیتی کے ساتھ سفارتکاری میں داخل ہوا ہے، لیکن اپنے حقوق پر مضبوطی سے قائم رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایران گذشتہ ایک سال کے تجربات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کھلی آنکھوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ وعدوں کی پاسداری لازم ہے، برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات محض الفاظ نہیں بلکہ کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیاد ہیں۔
یاد رہے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات آج عمان میں ہو رہے ہیں، جہاں ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جبکہ امریکی وفد کی نمائندگی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج ملکی دفاع کے لیے سفارتکاروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی ماہر، اسٹریٹیجک مذاکرات کار ہیں، عباس عراقچی کو اعلیٰ ترین فیصلہ سازوں، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کا اعتماد حاصل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ایران ساتھ مذاکرات عباس عراقچی کے ساتھ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔