پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں یادداشت جمع، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اور ملاقاتوں کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کو باضابطہ یادداشت پیش کر دی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ کی فراہمی، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا گیا، جس کے باعث سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر رہنما سپریم کورٹ پہنچے، جہاں شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔
اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس نے پمز اسپتال سے میڈیکل رپورٹ دینے کی بات کی تھی، مگر تاحال رپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب تمام پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ میں یادداشت پیش کریں گے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان افونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ 8 فروری کے احتجاجی پلان سے سب کو آگاہ کیا جا چکا تھا، کسی قسم کا ابہام عدم توجہ کی وجہ سے پیدا ہوا۔
مزید پڑھیںعوامی مینڈیٹ کی بحالی تک احتجاج جاری رہے گا، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اعلان
بانی پی ٹی آئی نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم قانون ہاتھ میں لیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
انہوں نے واضح کیا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے تمام رہنماؤں کو پلان سمجھا دیا ہے اور 8 فروری کو پرامن احتجاج کیا جائے گا۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی اور دستخط شدہ یادداشت پیش کی۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے تاحال فیملی، وکلا یا کسی اور کی ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ صرف ڈاکٹر سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ تسلی ہو سکے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس کا آئینی فریضہ ہے کہ وہ آئین و قانون کا دفاع کریں۔ ہم نے صرف میڈیکل رپورٹ کا مطالبہ کیا ہے، پوری قوم اس معاملے پر متجسس ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو عوام کو اپنا موقف باور کروایا جائے گا۔
یادداشت جمع کرانے کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا اور ارکان پارلیمنٹ واپس روانہ ہو گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ پی ٹی آئی
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔