سندھ حکومت نے رمضان المبارک میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
احسن عباسی :سندھ حکومت نے ماہ رمضان المبارک2026 سے قبل حکمت عملی بنا لی،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے پیشگی اقدامات کی ہدایت کردی ہے۔
محکمہ قیمت ورسد نے صوبہ کےتمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ ارسال کردیا،سندھ حکومت کی کمشنرز کو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری کیخلاف بھی سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
ضلعی کنٹرولرز تاجر، ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سبزی، پھل، چکن، انڈے اور کریانہ کی قیمتیں سرکاری گزٹ میں شائع ہوں گی۔
بھارت: عام آدمی پارٹی کے رہنما لکی اوبرائے جالندھر میں فائرنگ سے ہلاک
دکانوں اور ریڑہیوں پر نرخ نامے آویزاں کروائے جائیں، سبزی و فروٹ منڈیوں میں نیلامی کے عمل کی روزانہ نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہول سیل اور ریٹیل قیمتوں کے فرق کو کم کرنے کے اقدامات کریں،قیمتوں پر کنٹرول کے لیئے ضلعی انتظامیہ کے اچانک دورے بھی کرے۔
تمام اضلاع میں کنٹرول رومز اور شکایتی مراکز قائم کیئے جائیں گے،سندھ فوڈ اتھارٹی کو ملاوٹ کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی گئی ہے۔
دنیا بھر میں فیس بک کی سروسز متاثر، صارفین پریشان
سستے بازاروں میں آٹا اور اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی ہدایت
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔