WE News:
2026-06-03@04:11:11 GMT

بسنت؛ خوشیوں کا جشن یا احتیاط کا امتحان

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

بسنت؛ خوشیوں کا جشن یا احتیاط کا امتحان

لاہور ہمیشہ سے تہذیب، رنگ اور روایتوں کا شہر رہا ہے۔ یہاں کے موسم بدلتے ہیں تو صرف فضا نہیں بدلتی، رویّے، میلوں ٹھیلوں اور خوشیوں کے اظہار کے انداز بھی بدل جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ روایات نے بھی نئی شکلیں اختیار کیں کچھ نے حسن بڑھایا اور کچھ نے سوالات کو جنم دیا۔

6  فروری کو پورے 20 برس بعد، زندہ دلانِ لاہور کے لیے بسنت کا تہوار ایک بار پھر لوٹ آیا۔ وہی پیلا رنگ، وہی چھتوں کی رونق، وہی گلیوں میں چہل پہل پورا شہر اس طرح سجا جیسے ہر سمت عید کا سماں ہو۔ حکومتی احکامات کے تحت تیاریوں نے شہر کو پھر سے زندگی بخش دی اور ایک طویل خاموشی کے بعد لاہور نے ایک بار پھر مسکرانا سیکھ لیا۔

بسنت کی مشروط بحالی کے لیے حکومتِ پنجاب نے اس بار غیر معمولی انتظامات کیے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ٹریفک پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔ شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا، ڈرون نگرانی، چیک پوسٹس اور کنٹرول رومز قائم کیے گئے جبکہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ اور ہیلمٹ لازمی قرار دیے گئے۔

سرکاری اندازوں کے مطابق ان 3 دنوں کے انتظامات، سکیورٹی، نفاذِ قانون اور شہری سہولیات پر دو سے تین ارب روپے کے قریب سرکاری وسائل خرچ کیے گئے۔

حکومت نے بسنت کو مکمل آزادی کے بجائے سخت قانونی قواعد و ضوابط کے تحت منانے کی اجازت دی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے نوٹیفکیشن اور دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت صرف رجسٹرڈ دکانداروں کو پتنگ اور ڈور کی تیاری و فروخت کی اجازت دی گئی۔

دھاتی، کیمیائی، نائیلون یا شیشے والی ڈور پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور صرف سادہ روئی کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ مذہبی، سیاسی یا اشتعال انگیز نعروں اور علامات والی پتنگیں بھی ممنوع قرار پائیں۔

یہ اجازت بھی ہر جگہ یکساں نہیں رہی۔ لاہور کی اہم شاہراہوں، حساس علاقوں، ہسپتالوں، سرکاری عمارات، تاریخی مقامات، اور بعض رہائشی سوسائٹیز میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھی گئی، جبکہ شہر سے باہر اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں بسنت بدستور ممنوع رہی۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔ ممنوعہ ڈور بنانے یا فروخت کرنے پر 5 سے 7 سال قید اور لاکھوں سے کروڑوں روپے تک جرمانہ، جبکہ استعمال کرنے پر 3 سے 5 سال قید اور بھاری جرمانہ تجویز کیا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ کسی بھی غفلت یا خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

لیکن وقت کے ساتھ بدلتی روایات کا ایک تلخ پہلو بھی سامنے آیا۔ جو تہوار کبھی عام آدمی کی خوشی ہوا کرتا تھا، آج وہی غریب عوام کی پہنچ سے دور نظر آیا۔ چند سو روپے کے گڈے، تاوے اور ڈوریں ہزاروں بلکہ لاکھوں میں فروخت ہوئیں۔

3 دن کے اس تہوار نے چاندی کی قیمت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور کاروباری طبقے نے 20 سال کی کسر چند ہی دنوں میں کروڑوں روپے کما کر پوری کر لی۔

بسنت خوشی کا نام ہے، مگر اس خوشی کے دامن میں چھپے زخموں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تہوار کہیں خونی کھیل میں نہ بدل جائے، یہ یاد رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان گھروں کو نہ بھولیے جنہوں نے دھاتی ڈوروں کی وجہ سے اپنے پیارے کھو دیے۔ ان ماؤں کو یاد رکھیے جنہوں نے چند روپے کے کاغذی گڈے کی خاطر اپنے معصوم بچوں کو اونچی چھتوں سے گرتے دیکھا۔

تہوار منانا جرم نہیں، مگر لاپروائی جرم ضرور بن جاتی ہے۔ خدارا، بسنت ضرور منائیں لیکن صرف تہوار کی طرح۔ قانون، احتیاط اور انسانی جان کی حرمت کو مقدم رکھتے ہوئے۔ یہی وہ توازن ہے جو روایت کو زندہ بھی رکھتا ہے اور انسانیت کو محفوظ بھی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انعم ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور