WE News:
2026-07-24@02:05:21 GMT

بسنت؛ خوشیوں کا جشن یا احتیاط کا امتحان

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

بسنت؛ خوشیوں کا جشن یا احتیاط کا امتحان

لاہور ہمیشہ سے تہذیب، رنگ اور روایتوں کا شہر رہا ہے۔ یہاں کے موسم بدلتے ہیں تو صرف فضا نہیں بدلتی، رویّے، میلوں ٹھیلوں اور خوشیوں کے اظہار کے انداز بھی بدل جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ روایات نے بھی نئی شکلیں اختیار کیں کچھ نے حسن بڑھایا اور کچھ نے سوالات کو جنم دیا۔

6  فروری کو پورے 20 برس بعد، زندہ دلانِ لاہور کے لیے بسنت کا تہوار ایک بار پھر لوٹ آیا۔ وہی پیلا رنگ، وہی چھتوں کی رونق، وہی گلیوں میں چہل پہل پورا شہر اس طرح سجا جیسے ہر سمت عید کا سماں ہو۔ حکومتی احکامات کے تحت تیاریوں نے شہر کو پھر سے زندگی بخش دی اور ایک طویل خاموشی کے بعد لاہور نے ایک بار پھر مسکرانا سیکھ لیا۔

بسنت کی مشروط بحالی کے لیے حکومتِ پنجاب نے اس بار غیر معمولی انتظامات کیے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ٹریفک پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔ شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا، ڈرون نگرانی، چیک پوسٹس اور کنٹرول رومز قائم کیے گئے جبکہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ اور ہیلمٹ لازمی قرار دیے گئے۔

سرکاری اندازوں کے مطابق ان 3 دنوں کے انتظامات، سکیورٹی، نفاذِ قانون اور شہری سہولیات پر دو سے تین ارب روپے کے قریب سرکاری وسائل خرچ کیے گئے۔

حکومت نے بسنت کو مکمل آزادی کے بجائے سخت قانونی قواعد و ضوابط کے تحت منانے کی اجازت دی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے نوٹیفکیشن اور دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت صرف رجسٹرڈ دکانداروں کو پتنگ اور ڈور کی تیاری و فروخت کی اجازت دی گئی۔

دھاتی، کیمیائی، نائیلون یا شیشے والی ڈور پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور صرف سادہ روئی کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ مذہبی، سیاسی یا اشتعال انگیز نعروں اور علامات والی پتنگیں بھی ممنوع قرار پائیں۔

یہ اجازت بھی ہر جگہ یکساں نہیں رہی۔ لاہور کی اہم شاہراہوں، حساس علاقوں، ہسپتالوں، سرکاری عمارات، تاریخی مقامات، اور بعض رہائشی سوسائٹیز میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھی گئی، جبکہ شہر سے باہر اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں بسنت بدستور ممنوع رہی۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔ ممنوعہ ڈور بنانے یا فروخت کرنے پر 5 سے 7 سال قید اور لاکھوں سے کروڑوں روپے تک جرمانہ، جبکہ استعمال کرنے پر 3 سے 5 سال قید اور بھاری جرمانہ تجویز کیا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ کسی بھی غفلت یا خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

لیکن وقت کے ساتھ بدلتی روایات کا ایک تلخ پہلو بھی سامنے آیا۔ جو تہوار کبھی عام آدمی کی خوشی ہوا کرتا تھا، آج وہی غریب عوام کی پہنچ سے دور نظر آیا۔ چند سو روپے کے گڈے، تاوے اور ڈوریں ہزاروں بلکہ لاکھوں میں فروخت ہوئیں۔

3 دن کے اس تہوار نے چاندی کی قیمت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور کاروباری طبقے نے 20 سال کی کسر چند ہی دنوں میں کروڑوں روپے کما کر پوری کر لی۔

بسنت خوشی کا نام ہے، مگر اس خوشی کے دامن میں چھپے زخموں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تہوار کہیں خونی کھیل میں نہ بدل جائے، یہ یاد رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان گھروں کو نہ بھولیے جنہوں نے دھاتی ڈوروں کی وجہ سے اپنے پیارے کھو دیے۔ ان ماؤں کو یاد رکھیے جنہوں نے چند روپے کے کاغذی گڈے کی خاطر اپنے معصوم بچوں کو اونچی چھتوں سے گرتے دیکھا۔

تہوار منانا جرم نہیں، مگر لاپروائی جرم ضرور بن جاتی ہے۔ خدارا، بسنت ضرور منائیں لیکن صرف تہوار کی طرح۔ قانون، احتیاط اور انسانی جان کی حرمت کو مقدم رکھتے ہوئے۔ یہی وہ توازن ہے جو روایت کو زندہ بھی رکھتا ہے اور انسانیت کو محفوظ بھی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انعم ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا