بسنت خوبصورت تہوار ،ہم نے محفوظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں،عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بسنت خوبصورت تہوار ہے،دھاتی ڈور کی وجہ سے بسنت پر پابندی لگائی گئی تھی،ہم نے محفوظ بسنت کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں،لاہور میں موٹر سائیکلوں پر 10لاکھ کے قریب سیفی راڈز لگائے گئے ہیں،بسنت کے 3دن پبلک ٹرانسپورٹ فری کردی ہے،میٹرو، اورنج لائن اور بسوں پرسفر فری ہوگا تاکہ لوگ بائیک استعمال نہ کریں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عظمیٰ بخاری کاکہناتھا کہ ایک ارب24کروڑ سے زائد کی پتنگیں اورڈور فروخت ہو چکی ہے،بسنت کی وجہ سے پوری دنیا سے لوگ لاہور آ رہے ہیں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت قوانین بنائے ہیں،کوشش ہے لوگوں کو پریشانی اور مایوسی کے ماحول سے نکالا جائے،ان کا کہناتھا کہ اگر کسی نے دھاتی ڈور استعمال کی تو سختی سے نمٹا جائے گا، لوگوں کو چھتوں کے لئے این او سی جاری کئے گئے ہیں،لوگ بسنت کے تہوار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ایس او پیز پر عمل کریں،ڈرون کیمروں کی مدد سے چھتوں کو مانیٹر کریں گے،چند لوگوں کی غلطی کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کوخوشیوں سے محروم کردیا جاتا ہے،کسی قسم کی خلاف ورزی کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہاکہ بسنت کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی انڈسٹری بھی چل پڑی ہے،بسنت کی وجہ سے لوگوں کو روزگار مل رہا ہے ،لوگوں کو سٹاک کی وجہ سے بھی سپلائی چین میں مسئلہ آیا ہے ،ہر کام حکومتوں کا نہیں ہوتا شہریوں کو بھی رولز پر عمل کرنا ہوگا، تنقید کرنے والوں کو عوام کی خوشی سے تکلیف ہوتی ہے،ایسے لوگ چاہتے ہیں عوام خوشی اور سکھ کا سانس نہ لیں،پی ٹی آئی والے بسنت کے تہوار کو سیاسی نہ بنائیں۔
بسنت: انتظامی دعوے دھرے رہ گئے، 1 نوجوان جاں بحق، 3 بچوں سمیت 6 زخمی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کی وجہ سے لوگوں کو بسنت کے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔