25 سال سے روزانہ 2 کلو گالیاں کھاتا ہوں، مودی نے اپنی صحت کا راز بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے دوران خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر ایسا بیان دیا جس نے بھارتی سیاست میں بڑھتی ہوئی تلخی، عدم برداشت اور نفرت کے ماحول کو نمایاں کر دیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اپنی تقریر کے دوران مودی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے وہ روزانہ ’دو کلو گالیاں‘ کھا رہے ہیں اور یہی ان کی صحت کا راز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2002 سے اب تک ایسا کوئی دن نہیں گزرا جب انہیں تنقید یا گالیوں کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔
راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نعرے بازی اور شور شرابے کے باعث فضا خاصی کشیدہ رہی، جس کے بعد اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ان کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ’مودی تیری قبر کھودیں گے‘، جو ان کے بقول سیاسی اختلاف نہیں بلکہ شدید ذاتی نفرت کا اظہار ہے۔
بھارتی وزیراعظم نے اس موقع پر کانگریس کی سابقہ حکومتوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ان کی حکومت ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے میں مصروف رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کو درپیش مسائل کی جڑیں پرانی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں میں پیوست ہیں، جنہیں موجودہ دور میں درست کیا جا رہا ہے۔
مودی نے اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس عوام کو مسئلہ سمجھتی رہی ہے۔ اندرا گاندھی نے ایک بار اپنے والد جواہر لال نہرو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کو جتنے مسائل درپیش ہیں، اتنی ہی آبادی ہے، جس سے ان کے بقول کانگریس کی عوام کے بارے میں سوچ عیاں ہوتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نریندر مودی کا یہ بیان بھارتی سیاست میں بڑھتے ہوئے سیاسی تصادم، برداشت کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پارلیمنٹ جیسے فورم پر بھی سنجیدہ مکالمے کے بجائے طنز اور الزامات غالب آ چکے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ایسے بیانات ملک کو مزید تقسیم کی طرف دھکیل رہے ہیں اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔