Jang News:
2026-06-03@02:37:03 GMT

سیاست کو دشمنی، گالی گلوچ میں کس نے بدلا؟ رانا ثنا اللّٰہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

سیاست کو دشمنی، گالی گلوچ میں کس نے بدلا؟ رانا ثنا اللّٰہ

رانا ثنا اللّٰہ— فائل فوٹو 

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ 9 مئی دیکھیں یا 26 نومبر کو، اس جماعت کا پُرامن احتجاج کا ریکارڈ نہیں رہا۔

سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصرعباس کے بیان پر  ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ سیاست کو دشمنی، گالی گلوچ میں کس نے بدلا؟ پہیہ جام ہڑتال کیسے پُرامن ہو سکتی ہے؟ وہ خود پُرتشدد ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے: علامہ راجہ ناصر عباس

اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے معزز شہری ہیں، ان کے کچھ حقوق ہیں جن کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ راجہ ناصر عباس نے بات کی، قانون جو توڑے اس سے پوچھنا چاہیے، کیا پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں نہیں تھی؟ کیا عدالت نے ملاقات کو ریگولیٹ نہیں کیا؟ اور کہا کہ ملاقات کے بعد یہ کچھ نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ آپ نے ہائی کورٹ میں وعدہ کیا لیکن پھر آپ نے قانون کی خلاف ورزی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: رانا ثنا الل

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟