کیا فوج سے ملک بچانے کی توقع درست ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260206-03-5
حروں کے روحانی پیشوا سید صبغت اللہ شاہ راشدی المعروف پیر پگارا نے کہا ہے کہ پاکستان اگر آج قائم ہے تو فوج کی وجہ سے ہے۔ ہم اور آپ اگر آج سکون کا سانس لے رہے ہیں تو وہ بھی فوج کی بدولت ہے۔ فوج نے ہی ملک کو مضبوط رکھا ہوا ہے اس لیے سب لوگوں کو چاہیے کہ وہ فوج کے لیے دعاگو رہیں۔ پیر پگارا نے مزید فرمایا کہ فوج نے ہمیشہ ملک و قوم کی حفاظت کی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کیے ہیں۔ (روزنامہ ایکسپریس 2 فروری 2026ء)
پیر پگارا تو ایک جاہل آدمی ہیں۔ آج سے 36 سال پہلے ہمارے استاد اور شعبہ ابلاغ عامہ کے چیئرمین پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ نے بھی کچھ ایسی ہی باتیں کی تھیں۔ انہوں نے ایک ملاقات میں ہم سے کہا کہ پاکستان فوج کی وجہ سے موجود ہے فوج نہ ہو تو پاکستان بھی نہیں ہوگا۔ ہم نے اس کے جواب میں ان کے سامنے تین چار سوالات رکھے مگر وہ کسی بھی سوال کا جواب نہ دے سکے اور خاموش ہوگئے۔ ان کی خاموشی اس بات کا ثبوت تھی کہ فوج کے حوالے سے ان کا خیال درست نہیں تھا۔
انسانی تاریخ کا پورا سفر ہمارے سامنے ہے اور یہ سفر بتاتا ہے کہ یہ قوموں کا نظریہ ہوتا ہے جو قوموں کو بچاتا ہے۔ یہ قوموں کا داخلی اتحاد ہوتا ہے جو ان کی حفاظت کرتا ہے۔ قوموں کا نظریہ فنا یا غیر موثر ہوجائے اور ان کا داخلی اتحاد ختم ہوجائے تو دنیا کی کوئی فوج ملک نہیں بچا سکتی۔ سوشلزم کہنے کو ایک انسانی ساختہ نظریہ تھا مگر اس نظریے نے روس کو سوویت یونین جیسی سلطنت میں ڈھالا اور اسے دیکھتے ہی دیکھتے وقت کی دو سپر پاورز میں ایک سپر پاور بنادیا۔ لیکن جب 1990ء کی دہائی میں سوشلزم مرجھا گیا تو سوویت یونین ٹوٹ کر بکھر گیا اور سوویت یونین کی فوج اسے نہ بچا سکی۔ حالانکہ سوویت یونین کی فوج دنیا کی تین بڑی فوجوں میں سے ایک تھی۔ اس نے آدھے سے زیادہ یورپ فتح کیا تھا۔ اس کے پاس ایٹم بم تھے۔ بین البراعظمی میزائل تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ سوویت یونین کو متحد نہ رکھ سکی۔ نظریے کی طاقت ایسی ہے کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘ بنا کر کھڑا کردیا اور قائداعظم نے اسلام کی قوت سے پاکستان خلق کردیا۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی باضابطہ فوج نہیں تھی۔ لیکن جب 1971ء میں ملک کا نظریہ کمزور پڑ گیا اور قومی اتحاد ختم ہوگیا تو فوج بھی پاکستان کو متحد نہ رکھ سکی۔ یہاں تک کہ ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے بھارت کے آگے ہتھیار ڈالے اور اندرا گاندھی کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرکے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے۔
یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ سوویت یونین نے 1979ء میں افغانستان پر قبضہ کیا تو مٹھی بھر مجاہدین نے کسی ریاستی طاقت اور منظم فوج کے بغیر سوویت یونین کی مزاحمت کی اور دس سال میں جہاد کی برکت سے سوویت یونین کو شکست دے کر اسے افغانستان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس جہاد میں امریکا اور یورپ نے مجاہدین کی مالی اور عسکری مدد کی اور یہ بات غلط نہیں مگر بہرحال میدان جہاد میں کوئی Standing Army سوویت یونین کے مقابل نہیں تھی۔ یہ صرف مجاہدین تھے جو سوویت یونین کے خلاف صف آرا تھے۔ نائن الیون کے بعد امریکا اور اس کے 47 اتحادیوں نے افغانستان پر یلغار کی تو پوری دنیا کا خیال یہ تھا کہ اب افغانستان میں وہی ہوگا جو امریکا اور اس کے اتحادی چاہیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی قوت بے پناہ تھی۔ مگر افغانستان میں جو کچھ ہوا ہمارے سامنے ہے۔ طالبان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مزاحمت کی اور کسی باضابطہ فوج کے بغیر امریکا کو 20 سال میں شکست سے دوچار کردیا۔ یہاں تک کہ امریکا انہی طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبورا ہوا جنہیں وہ دہشت گرد کہتا تھا۔ امریکا نے افغان جنگ میں تین ہزار ارب ڈالر صرف کیے مگر اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ نظریے کی قوت نے امریکا کی عسکری، معاشی اور سیاسی طاقت کو منہ کے بل گرادیا اور وہ بھی کسی ریاستی طاقت اور کسی فوج کے بغیر۔
طالبان کے پاس تو اسلام کی طاقت تھی مگر امریکا نے جب ویت نام میں مداخلت کی تھی تو اس کے خلاف بھی کسی باضابطہ فوج نے مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ امریکا کے مقابل ’’گوریلا فورس‘‘ تھی اور اس گوریلا فورس نے دس سال میں امریکا کو شکست دے کر ویت نام سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اس لیے کہ ویت نامی قوم امریکا کی مزاحمت پر ’’متحد‘‘ تھی۔
بدقسمتی سے ہمارے جرنیل کبھی پاکستان کو حقیقی معنوں میں ’’نظریاتی ریاست‘‘ نہیں بناسکے بلکہ جرنیلوں کی اکثریت نے ملک کے نظریے سے غداری کی۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا مگر جنرل ایوب نے پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی سازش کی۔ انہوں نے سود کو ’’حلال‘‘ قرار دلوایا اور ملک پر ایسے عائلی قوانین مسلط کیے جو اسلام سے متصادم تھے۔ جنرل یحییٰ تین سال تک شراب اور شباب کو اپنا ’’نظریہ حیات‘‘ بنائے رہے۔ جنرل پرویز 9 سال تک پاکستان کو لبرل بنانے کے لیے کوشاں رہے۔ جنرل ضیا الحق مذہبی ضرور تھے مگر وہ بھی دس سال تک اسلام سے مذاق کرتے رہے۔ انہوں نے ایسی غیر سودی بینکاری متعارف کرائی جو اصل میں ’’سودی‘‘ تھی۔ انہوں نے اسلام کے نظام صلوٰۃ کو مذاق بنادیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنرل ضیا الحق اسلام کا نام صرف سیاسی فائدے کے لیے لیتے تھے۔ اب ہم جنرل سید حافظ عاصم منیر کے عہد میں سانس لے رہے ہیں مگر انہوں نے ڈھائی سال میں پاکستان کو ’’نظریاتی ریاست‘‘ بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان کے جرنیل فوج کو بھی ’’نظریاتی‘‘ نہیں بناسکے۔ پاکستانی فوج کی تعلیم و تربیت قرآن و سنت اور جہاد فی سبیل اللہ پر ہونی چاہیے مگر فوج میں آج بھی ’’برٹش آرمی‘‘ کی تعلیم و تربیت رائج ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے ہمارے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پاک فوج برٹش آرمی کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تو کہتا ہوں کہ فوجیوں کو انگریز شاعروں جان کیٹس اور شیلے کے بجائے کلام اقبال پڑھانا چاہیے لیکن بہرحال آج بھی پاکستانی فوجی انگریزی کلچر میں سانس لیتے ہیں اور انہیں قرآن و سنت کیا ’’کلامِ اقبال‘‘ کی بھی ہوا نہیں لگی۔ ہمارے جرنیلوں کی نااہلی کی انتہا یہ ہے کہ 1947ء سے 1971ء تک وہ فوج کو حقیقی معنوں میں ’’قومی فوج‘‘ بھی نہ بنا سکے۔ 1947ء سے 1971ء تک پاکستانی فوج اپنی ساخت اور روح میں ایک پنجابی اور پشتون فوج تھی۔ بنگالی آبادی کا 56 فی صد تھے مگر 1947ء سے 1962 تک فوج میں ایک بھی بنگالی نہیں تھا۔ 1971ء میں جب پاکستان دو ٹکڑے ہوا تو فوج میں بنگالیوں کی موجودگی صرف سات آٹھ فی صد تھی حالانکہ وہ آبادی کا 56 فی صد تھے۔ پنجابی آبادی کا 25 فی صد تھے مگر فوج کا 70 فی صد پنجابیوں پر مشتمل تھا۔ پشتون آبادی کا صرف 5 فی صد تھے مگر وہ فوج میں 15 فی صد تھے۔ بلاشبہ آج ہماری فوج 1971 سے زیادہ ’’قومی‘‘ ہے مگر آج بھی اس میں پنجابیوں اور پشتونوں کا غلبہ ہے۔ فوج میں بلوچوں، سندھیوں اور مہاجروں کی موجودگی ’’علامتی‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی فوج جو نہ نظریاتی ہو نہ حقیقی معنوں میں قومی ہو وہ تن تنہا ملک کا دفاع کرسکتی ہے؟
فوج تو دور کی بات ہے ہمارے جرنیلوں نے سیاست تک کو اسلامی اور قومی نہیں بنایا۔ نواز لیگ اپنی اصل میں ایک ’’پنجابی پارٹی‘‘ ہے۔ نواز شریف ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ کو لگ گیا داغ‘‘ کے نعرے کے علمبردار ہیں۔ مریم خود کو اسلام یا پاکستان کی بیٹی نہیں کہتیں وہ خود کو ’’پنجاب کی بیٹی‘‘ کہتی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ایک ’’سندھی پارٹی‘‘ ہے۔ جنرل عاصم منیر کی جیب میں پڑی ہوئی ایم کیو ایم ایک ’’مہاجر پارٹی‘‘ ہے۔ ایسی مہاجر پارٹی جس کی سیاسی موت واقع ہوچکی ہے مگر اس کے باوجود جنرل عاصم منیر نے اسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی ڈیڑھ درجن سے زیادہ نشستیں فارم 47 کے ذریعے دلا دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جرنیل جو سیاست کررہے ہیں وہ ملک بچانے والی ہے یا ملک گنوانے والی؟ بلاشبہ پاک فوج نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن جیسا کہ ظاہر ہے کہ جو ہوا خدا کی مدد کی وجہ سے ہوا۔ اس کے باوجود جنرل عاصم منیر نے خود کو فیلڈ مارشل بنوا کر فتح کا کریڈٹ خدا کو دینے کے بجائے خود لے لیا۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جو قومیں علم کے دائرے میں ترقی کرتی ہیں ان کا دفاع خود بہ خود مضبوط ہوجاتا ہے مگر ہمارے جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں نے تعلیم کے دائرے میں جو ’’کارنامے‘‘ انجام دیے ہیں ان کی ایک جھلک یہ ہے کہ مالدیپ کی شرح خواندگی 96 فی صد، سری لنکا کی شرح خواندگی 93 فی صد، بھارت کی شرح خواندگی 87 فی صد اور بنگلا دیش کی شرح خواندگی 79 فی صد ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی شرح خواندگی صرف 63 فی صد ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کی اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جو جرنیل اور سیاست دان قوم کو 78 سال میں خواندہ نہ بناسکے وہ اس کی آزادی کا دفاع کیا کریں گے؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا اور اس کے کی شرح خواندگی سوویت یونین ہمارے جرنیل پاکستان کو ا بادی کا فی صد تھے انہوں نے یہ ہے کہ میں ایک سال میں فوج میں تھے مگر اور ان کی وجہ فوج کے فوج نے فوج کی
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔