Jasarat News:
2026-07-24@09:14:43 GMT

کیا فوج سے ملک بچانے کی توقع درست ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260206-03-5
حروں کے روحانی پیشوا سید صبغت اللہ شاہ راشدی المعروف پیر پگارا نے کہا ہے کہ پاکستان اگر آج قائم ہے تو فوج کی وجہ سے ہے۔ ہم اور آپ اگر آج سکون کا سانس لے رہے ہیں تو وہ بھی فوج کی بدولت ہے۔ فوج نے ہی ملک کو مضبوط رکھا ہوا ہے اس لیے سب لوگوں کو چاہیے کہ وہ فوج کے لیے دعاگو رہیں۔ پیر پگارا نے مزید فرمایا کہ فوج نے ہمیشہ ملک و قوم کی حفاظت کی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کیے ہیں۔ (روزنامہ ایکسپریس 2 فروری 2026ء)

پیر پگارا تو ایک جاہل آدمی ہیں۔ آج سے 36 سال پہلے ہمارے استاد اور شعبہ ابلاغ عامہ کے چیئرمین پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ نے بھی کچھ ایسی ہی باتیں کی تھیں۔ انہوں نے ایک ملاقات میں ہم سے کہا کہ پاکستان فوج کی وجہ سے موجود ہے فوج نہ ہو تو پاکستان بھی نہیں ہوگا۔ ہم نے اس کے جواب میں ان کے سامنے تین چار سوالات رکھے مگر وہ کسی بھی سوال کا جواب نہ دے سکے اور خاموش ہوگئے۔ ان کی خاموشی اس بات کا ثبوت تھی کہ فوج کے حوالے سے ان کا خیال درست نہیں تھا۔

انسانی تاریخ کا پورا سفر ہمارے سامنے ہے اور یہ سفر بتاتا ہے کہ یہ قوموں کا نظریہ ہوتا ہے جو قوموں کو بچاتا ہے۔ یہ قوموں کا داخلی اتحاد ہوتا ہے جو ان کی حفاظت کرتا ہے۔ قوموں کا نظریہ فنا یا غیر موثر ہوجائے اور ان کا داخلی اتحاد ختم ہوجائے تو دنیا کی کوئی فوج ملک نہیں بچا سکتی۔ سوشلزم کہنے کو ایک انسانی ساختہ نظریہ تھا مگر اس نظریے نے روس کو سوویت یونین جیسی سلطنت میں ڈھالا اور اسے دیکھتے ہی دیکھتے وقت کی دو سپر پاورز میں ایک سپر پاور بنادیا۔ لیکن جب 1990ء کی دہائی میں سوشلزم مرجھا گیا تو سوویت یونین ٹوٹ کر بکھر گیا اور سوویت یونین کی فوج اسے نہ بچا سکی۔ حالانکہ سوویت یونین کی فوج دنیا کی تین بڑی فوجوں میں سے ایک تھی۔ اس نے آدھے سے زیادہ یورپ فتح کیا تھا۔ اس کے پاس ایٹم بم تھے۔ بین البراعظمی میزائل تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ سوویت یونین کو متحد نہ رکھ سکی۔ نظریے کی طاقت ایسی ہے کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘ بنا کر کھڑا کردیا اور قائداعظم نے اسلام کی قوت سے پاکستان خلق کردیا۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی باضابطہ فوج نہیں تھی۔ لیکن جب 1971ء میں ملک کا نظریہ کمزور پڑ گیا اور قومی اتحاد ختم ہوگیا تو فوج بھی پاکستان کو متحد نہ رکھ سکی۔ یہاں تک کہ ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے بھارت کے آگے ہتھیار ڈالے اور اندرا گاندھی کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرکے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے۔

یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ سوویت یونین نے 1979ء میں افغانستان پر قبضہ کیا تو مٹھی بھر مجاہدین نے کسی ریاستی طاقت اور منظم فوج کے بغیر سوویت یونین کی مزاحمت کی اور دس سال میں جہاد کی برکت سے سوویت یونین کو شکست دے کر اسے افغانستان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس جہاد میں امریکا اور یورپ نے مجاہدین کی مالی اور عسکری مدد کی اور یہ بات غلط نہیں مگر بہرحال میدان جہاد میں کوئی Standing Army سوویت یونین کے مقابل نہیں تھی۔ یہ صرف مجاہدین تھے جو سوویت یونین کے خلاف صف آرا تھے۔ نائن الیون کے بعد امریکا اور اس کے 47 اتحادیوں نے افغانستان پر یلغار کی تو پوری دنیا کا خیال یہ تھا کہ اب افغانستان میں وہی ہوگا جو امریکا اور اس کے اتحادی چاہیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی قوت بے پناہ تھی۔ مگر افغانستان میں جو کچھ ہوا ہمارے سامنے ہے۔ طالبان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مزاحمت کی اور کسی باضابطہ فوج کے بغیر امریکا کو 20 سال میں شکست سے دوچار کردیا۔ یہاں تک کہ امریکا انہی طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبورا ہوا جنہیں وہ دہشت گرد کہتا تھا۔ امریکا نے افغان جنگ میں تین ہزار ارب ڈالر صرف کیے مگر اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ نظریے کی قوت نے امریکا کی عسکری، معاشی اور سیاسی طاقت کو منہ کے بل گرادیا اور وہ بھی کسی ریاستی طاقت اور کسی فوج کے بغیر۔

طالبان کے پاس تو اسلام کی طاقت تھی مگر امریکا نے جب ویت نام میں مداخلت کی تھی تو اس کے خلاف بھی کسی باضابطہ فوج نے مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ امریکا کے مقابل ’’گوریلا فورس‘‘ تھی اور اس گوریلا فورس نے دس سال میں امریکا کو شکست دے کر ویت نام سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اس لیے کہ ویت نامی قوم امریکا کی مزاحمت پر ’’متحد‘‘ تھی۔

بدقسمتی سے ہمارے جرنیل کبھی پاکستان کو حقیقی معنوں میں ’’نظریاتی ریاست‘‘ نہیں بناسکے بلکہ جرنیلوں کی اکثریت نے ملک کے نظریے سے غداری کی۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا مگر جنرل ایوب نے پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی سازش کی۔ انہوں نے سود کو ’’حلال‘‘ قرار دلوایا اور ملک پر ایسے عائلی قوانین مسلط کیے جو اسلام سے متصادم تھے۔ جنرل یحییٰ تین سال تک شراب اور شباب کو اپنا ’’نظریہ حیات‘‘ بنائے رہے۔ جنرل پرویز 9 سال تک پاکستان کو لبرل بنانے کے لیے کوشاں رہے۔ جنرل ضیا الحق مذہبی ضرور تھے مگر وہ بھی دس سال تک اسلام سے مذاق کرتے رہے۔ انہوں نے ایسی غیر سودی بینکاری متعارف کرائی جو اصل میں ’’سودی‘‘ تھی۔ انہوں نے اسلام کے نظام صلوٰۃ کو مذاق بنادیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنرل ضیا الحق اسلام کا نام صرف سیاسی فائدے کے لیے لیتے تھے۔ اب ہم جنرل سید حافظ عاصم منیر کے عہد میں سانس لے رہے ہیں مگر انہوں نے ڈھائی سال میں پاکستان کو ’’نظریاتی ریاست‘‘ بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان کے جرنیل فوج کو بھی ’’نظریاتی‘‘ نہیں بناسکے۔ پاکستانی فوج کی تعلیم و تربیت قرآن و سنت اور جہاد فی سبیل اللہ پر ہونی چاہیے مگر فوج میں آج بھی ’’برٹش آرمی‘‘ کی تعلیم و تربیت رائج ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے ہمارے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پاک فوج برٹش آرمی کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تو کہتا ہوں کہ فوجیوں کو انگریز شاعروں جان کیٹس اور شیلے کے بجائے کلام اقبال پڑھانا چاہیے لیکن بہرحال آج بھی پاکستانی فوجی انگریزی کلچر میں سانس لیتے ہیں اور انہیں قرآن و سنت کیا ’’کلامِ اقبال‘‘ کی بھی ہوا نہیں لگی۔ ہمارے جرنیلوں کی نااہلی کی انتہا یہ ہے کہ 1947ء سے 1971ء تک وہ فوج کو حقیقی معنوں میں ’’قومی فوج‘‘ بھی نہ بنا سکے۔ 1947ء سے 1971ء تک پاکستانی فوج اپنی ساخت اور روح میں ایک پنجابی اور پشتون فوج تھی۔ بنگالی آبادی کا 56 فی صد تھے مگر 1947ء سے 1962 تک فوج میں ایک بھی بنگالی نہیں تھا۔ 1971ء میں جب پاکستان دو ٹکڑے ہوا تو فوج میں بنگالیوں کی موجودگی صرف سات آٹھ فی صد تھی حالانکہ وہ آبادی کا 56 فی صد تھے۔ پنجابی آبادی کا 25 فی صد تھے مگر فوج کا 70 فی صد پنجابیوں پر مشتمل تھا۔ پشتون آبادی کا صرف 5 فی صد تھے مگر وہ فوج میں 15 فی صد تھے۔ بلاشبہ آج ہماری فوج 1971 سے زیادہ ’’قومی‘‘ ہے مگر آج بھی اس میں پنجابیوں اور پشتونوں کا غلبہ ہے۔ فوج میں بلوچوں، سندھیوں اور مہاجروں کی موجودگی ’’علامتی‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی فوج جو نہ نظریاتی ہو نہ حقیقی معنوں میں قومی ہو وہ تن تنہا ملک کا دفاع کرسکتی ہے؟

فوج تو دور کی بات ہے ہمارے جرنیلوں نے سیاست تک کو اسلامی اور قومی نہیں بنایا۔ نواز لیگ اپنی اصل میں ایک ’’پنجابی پارٹی‘‘ ہے۔ نواز شریف ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ کو لگ گیا داغ‘‘ کے نعرے کے علمبردار ہیں۔ مریم خود کو اسلام یا پاکستان کی بیٹی نہیں کہتیں وہ خود کو ’’پنجاب کی بیٹی‘‘ کہتی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ایک ’’سندھی پارٹی‘‘ ہے۔ جنرل عاصم منیر کی جیب میں پڑی ہوئی ایم کیو ایم ایک ’’مہاجر پارٹی‘‘ ہے۔ ایسی مہاجر پارٹی جس کی سیاسی موت واقع ہوچکی ہے مگر اس کے باوجود جنرل عاصم منیر نے اسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی ڈیڑھ درجن سے زیادہ نشستیں فارم 47 کے ذریعے دلا دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جرنیل جو سیاست کررہے ہیں وہ ملک بچانے والی ہے یا ملک گنوانے والی؟ بلاشبہ پاک فوج نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن جیسا کہ ظاہر ہے کہ جو ہوا خدا کی مدد کی وجہ سے ہوا۔ اس کے باوجود جنرل عاصم منیر نے خود کو فیلڈ مارشل بنوا کر فتح کا کریڈٹ خدا کو دینے کے بجائے خود لے لیا۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جو قومیں علم کے دائرے میں ترقی کرتی ہیں ان کا دفاع خود بہ خود مضبوط ہوجاتا ہے مگر ہمارے جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں نے تعلیم کے دائرے میں جو ’’کارنامے‘‘ انجام دیے ہیں ان کی ایک جھلک یہ ہے کہ مالدیپ کی شرح خواندگی 96 فی صد، سری لنکا کی شرح خواندگی 93 فی صد، بھارت کی شرح خواندگی 87 فی صد اور بنگلا دیش کی شرح خواندگی 79 فی صد ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی شرح خواندگی صرف 63 فی صد ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کی اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جو جرنیل اور سیاست دان قوم کو 78 سال میں خواندہ نہ بناسکے وہ اس کی آزادی کا دفاع کیا کریں گے؟

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اس کے کی شرح خواندگی سوویت یونین ہمارے جرنیل پاکستان کو ا بادی کا فی صد تھے انہوں نے یہ ہے کہ میں ایک سال میں فوج میں تھے مگر اور ان کی وجہ فوج کے فوج نے فوج کی

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج