واشنگٹن میں کریٹیکل منرلز وزارتی اجلاس، سپلائی چین محفوظ بنانے کے لیے بڑے فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امریکا نے اپنے اتحادیوں اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں کی منڈی کو ازسرنو تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے 2026 کا کریٹیکل منرلز وزارتی اجلاس امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی میزبانی میں منعقد کیا گیا۔
اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر داخلہ ڈگ برگم، وزیر توانائی کرس رائٹ اور امریکی تجارتی نمائندے ایمبیسیڈر جیمیسن گریئر بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں 54 ممالک اور یورپی کمیشن کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں 43 وزرا اور اعلیٰ سطحی حکام شامل تھے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن
وزارتی اجلاس سے جاری فیکٹ شیٹ کے مطابق، کریٹیکل منرلز اور ریئر ارتھ عناصر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بیٹریز اور خودکار آلات کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ اس وقت ان معدنیات کی عالمی سپلائی چند خطوں تک محدود ہے، جس کے باعث یہ سیاسی دباؤ اور سپلائی چین میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں، جو عالمی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران امریکا اور اس کے شراکت داروں نے محفوظ، متنوع اور مضبوط سپلائی چینز کے قیام کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے۔
ایک ہی دن میں امریکا نے مختلف ممالک کے ساتھ کریٹیکل منرلز سے متعلق نئے دوطرفہ فریم ورک اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جبکہ اسٹریٹجک معدنی منصوبوں کے لیے امریکی حکومتی مالی معاونت کے مواقع کا بھی اعلان کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ریئر ارتھ منرلز کیا ہیں اور ان کا مصرف کیا ہے؟
امریکا نے ارجنٹینا، ایکواڈور، گنی، مراکش، پیراگوئے، پیرو، فلپائن، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مجموعی طور پر 11 نئے معاہدے طے کیے، جبکہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران 10 مزید معاہدے کیے جا چکے ہیں۔ مزید 17 ممالک کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فورم آن ریسورس جیو اسٹریٹجک انگیجمنٹ یعنی فورج کے قیام کا اعلان کیا، جو منرلز سکیورٹی پارٹنرشپ کی جگہ لے گا۔
فورج کی صدارت جون تک جمہوریہ کوریا کے پاس رہے گی اور یہ عالمی سطح پر کریٹیکل منرلز کی سپلائی چین کو محفوظ اور مستحکم بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں فیوچر منرلز فورم، پاکستانی معدنی شعبے کو زبردست پذیرائی
فیکٹ شیٹ کے مطابق، امریکا نے نجی شعبے کے اشتراک سے گزشتہ 6 ماہ میں کریٹیکل منرل سپلائی چین کے لیے 30 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری، قرضوں اور مالی معاونت کے اقدامات کیے ہیں، جس سے اربوں ڈالر کے مزید منصوبے شروع ہونے کی توقع ہے۔
ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس کے تحت پاکستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے 1.
اس کے علاوہ امریکا میں لیتھیم، کوبالٹ، نکل، ٹائٹینیم اور دیگر اہم معدنیات کے متعدد منصوبوں کے لیے بھی بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف امریکا بلکہ اس کے اتحادی ممالک کی معاشی مسابقت اور قومی سلامتی مضبوط ہو گی، جبکہ عالمی منڈی میں اہم معدنیات کی منصفانہ اور مستحکم فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایکسپورٹ امپورٹ پاکستان ریکوڈک فائنانسنگ قومی سلامتی کریٹیکل منرلز منرلز سکیورٹی پارٹنرشپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایکسپورٹ امپورٹ پاکستان ریکوڈک فائنانسنگ قومی سلامتی کریٹیکل منرلز منرلز سکیورٹی پارٹنرشپ کریٹیکل منرلز ممالک کے ساتھ سپلائی چین امریکا نے کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز