امریکا نے اپنے اتحادیوں اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں کی منڈی کو ازسرنو تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے 2026 کا کریٹیکل منرلز وزارتی اجلاس امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی میزبانی میں منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر داخلہ ڈگ برگم، وزیر توانائی کرس رائٹ اور امریکی تجارتی نمائندے ایمبیسیڈر جیمیسن گریئر بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں 54 ممالک اور یورپی کمیشن کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں 43 وزرا اور اعلیٰ سطحی حکام شامل تھے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن

وزارتی اجلاس سے جاری فیکٹ شیٹ کے مطابق، کریٹیکل منرلز اور ریئر ارتھ عناصر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بیٹریز اور خودکار آلات کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔

امریکا کا مؤقف ہے کہ اس وقت ان معدنیات کی عالمی سپلائی چند خطوں تک محدود ہے، جس کے باعث یہ سیاسی دباؤ اور سپلائی چین میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں، جو عالمی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

اجلاس کے دوران امریکا اور اس کے شراکت داروں نے محفوظ، متنوع اور مضبوط سپلائی چینز کے قیام کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے۔

ایک ہی دن میں امریکا نے مختلف ممالک کے ساتھ کریٹیکل منرلز سے متعلق نئے دوطرفہ فریم ورک اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جبکہ اسٹریٹجک معدنی منصوبوں کے لیے امریکی حکومتی مالی معاونت کے مواقع کا بھی اعلان کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ریئر ارتھ منرلز کیا ہیں اور ان کا مصرف کیا ہے؟

امریکا نے ارجنٹینا، ایکواڈور، گنی، مراکش، پیراگوئے، پیرو، فلپائن، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مجموعی طور پر 11 نئے معاہدے طے کیے، جبکہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران 10 مزید معاہدے کیے جا چکے ہیں۔ مزید 17 ممالک کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فورم آن ریسورس جیو اسٹریٹجک انگیجمنٹ یعنی فورج کے قیام کا اعلان کیا، جو منرلز سکیورٹی پارٹنرشپ کی جگہ لے گا۔

فورج کی صدارت جون تک جمہوریہ کوریا کے پاس رہے گی اور یہ عالمی سطح پر کریٹیکل منرلز کی سپلائی چین کو محفوظ اور مستحکم بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں فیوچر منرلز فورم، پاکستانی معدنی شعبے کو زبردست پذیرائی

فیکٹ شیٹ کے مطابق، امریکا نے نجی شعبے کے اشتراک سے گزشتہ 6 ماہ میں کریٹیکل منرل سپلائی چین کے لیے 30 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری، قرضوں اور مالی معاونت کے اقدامات کیے ہیں، جس سے اربوں ڈالر کے مزید منصوبے شروع ہونے کی توقع ہے۔

ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس کے تحت پاکستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے 1.

3 ارب ڈالر کی فائنانسنگ بھی شامل ہے، جس سے تانبے اور سونے کی پیداوار کو فروغ ملے گا۔

اس کے علاوہ امریکا میں لیتھیم، کوبالٹ، نکل، ٹائٹینیم اور دیگر اہم معدنیات کے متعدد منصوبوں کے لیے بھی بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف امریکا بلکہ اس کے اتحادی ممالک کی معاشی مسابقت اور قومی سلامتی مضبوط ہو گی، جبکہ عالمی منڈی میں اہم معدنیات کی منصفانہ اور مستحکم فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایکسپورٹ امپورٹ پاکستان ریکوڈک فائنانسنگ قومی سلامتی کریٹیکل منرلز منرلز سکیورٹی پارٹنرشپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایکسپورٹ امپورٹ پاکستان ریکوڈک فائنانسنگ قومی سلامتی کریٹیکل منرلز منرلز سکیورٹی پارٹنرشپ کریٹیکل منرلز ممالک کے ساتھ سپلائی چین امریکا نے کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے