پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ہفتہ وار ایئر فلائٹس کی تعداد بڑھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے اعلان کیا ہے کہ ازبکتسان و پاکستان کے درمیان 2 اضافی براہ راست پروازیں شروع کی جائیں گی جس سے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 6 ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کا نیا باب، 28 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے آئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے کہا کہ فلائٹس کی تعداد میں اضافے سے عوامی روابط، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہولت میسر ہوگی۔
اس موقعے پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور اس شراکت داری کو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب پر مبنی ایک فطری اور پائیدار تعلق سمجھتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان روابط، تجارت اور عوامی سطح پر روابط کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر شوکت مرزیایوف کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کا دورہ نتیجہ خیز اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والا ثابت ہوگا۔
انہوں نے صدر مرزیایوف کو ایک وژنری رہنما قرار دیا جن کی قیادت میں ازبکستان ایک جدید اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرا ہے اور جن کی علاقائی و عالمی امن کے لیے خدمات کو بھرپور سراہا جاتا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں صدر مرزیایوف کے ذاتی کردار کو بھی سراہا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان قدرتی شراکت دار ہیں اور دونوں کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، روابط، دفاع، سلامتی، ثقافت اور ورثے کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی روابط کو عوامی روابط کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا اور ازبکستان، افغانستان و پاکستان ریلوے منصوبے سمیت علاقائی روابط کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا جبکہ باقی چیلنجز کو مشترکہ کوششوں سے حل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور ازبکستان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور، اسحاق ڈار کی ازبک صدر سے ملاقات
صدر زرداری نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو تعلقات کی اصل معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے اقدامات تیز کرنے چاہییں۔
انہوں نے عوامی روابط، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور تاریخی و روحانی روابط کو بنیاد بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بینکوں سمیت مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
اس موقعے پر صدر شوکت مرزیایوف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے مختلف سطحوں پر دوطرفہ روابط میں اضافے، تجارت کے فروغ، مشترکہ منصوبوں اور اقتصادی شعبوں میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اپنے متعلقہ وزیر کو پاکستانی ہم منصب کے ساتھ قریبی رابطے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری قازقستان اور ازبکستان کے صدور کو نشانِ پاکستان عطا کریں گے
ازبک صدر نے سیاسی مکالمے کے فروغ، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط بنانے اور کاروباری روابط کو مزید فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو ازبکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
ملاقات کے دوران دونوں صدور نے علاقائی صورتحال، امن، استحکام اور سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس سے قبل دونوں صدور کے درمیان ایک فرداً فرداً ملاقات ہوئی، جس میں اہم دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور ازبکستان اقتصادی شراکت داری میں تیزی، 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کی جانب پیشرفت
پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی، صنعت و پیداوار کے لیے خصوصی معاون ہارون اختر، سینیٹر سلیم منڈی والا، راجہ پرویز اشرف ایم این اے، سابق چیئرمین سینیٹ نیر بخاری، ازبکستان میں پاکستان کے سفیر اور سیکریٹری خارجہ شامل تھے۔
ازبک وفد میں صدر کے مشیر عبدالعزیز کاملوف، وزیر دفاع شخرت خلمخمدوف، وزیر سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لازیز قدرتوف، وزیر ٹرانسپورٹ الکھام مخکاموف، وزیر کان کنی و جیالوجی بوبیر اسلاموف، وزیر زراعت ابروخیم عبدالرخمانوف، وزیر ثقافت اوزبیک نظربیکوف، نائب وزیر خارجہ بخروُم الوئیف اور پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف شامل تھے۔
بعد ازاں ایک خصوصی تقریب میں صدرِ مملکت نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں صدر شوکت مرزیایوف کو نشانِ پاکستان سے نوازا۔
مزید پڑھیں: ازبکستان سے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت، پاکستان کا صنعتی و سیاحتی تعاون بڑھانے کا اعلان
تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے اراکین، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، سفارتی کور اور ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اس کے بعد معزز مہمان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ازبکستان پاکستان پاکستان ازبکستان فلائٹس صدر ازبکستان شوکت مرزیایوف صدر آصف علی زداری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ازبکستان پاکستان پاکستان ازبکستان فلائٹس صدر ازبکستان شوکت مرزیایوف صدر ا صف علی زداری پاکستان اور ازبکستان اور ازبکستان کے علی زرداری تعلقات کو کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے کو مزید زور دیا کے فروغ کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔