وزیر اعلیٰ سندھ نے ایکسپو سینٹر میں تین روزہ 21 ویں مائی کراچی نمائش کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کراچی:
کراچی چیمبر آف کامرس کے تحت ایکسپو سینٹر میں تین روزہ 21 ویں مائی کراچی نمائش کا آغاز ہوگیا، نمائش میں 300 سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے اسٹالز لگائے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مائی کراچی نمائش کا افتتاح کیا، افتتاحی تقریب میں وزیر صنعت جام اکرام، معروف بزنس مین عارف حبیب، زبیرموتی والا سمیت دیگر صنعت کاروں اور مختلف ممالک کے سفارتکاروں نے شرکت کی۔ مائی کراچی نمائش میں پاکستانی مصنوعات کو ترجیحی طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مائی کراچی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے نمائش کے منتظمین اور تاجروں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش شہر کے کاروبار، ثقافت اور کمیونٹی کی اہم تقریب بن چکی ہے، 20-21 سال قبل کراچی کے سنگین حالات میں مائی کراچی نمائش کا آغاز کیا گیا جو اب اس شہر کے کلینڈر میں شامل ہوچکی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر کو سانحات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کو ہر فرد کا تعاون درکار ہے، شہدائے گل پلازہ کے لیے دعاگو ہوں، کوشش کی ہے کہ گل پلازہ سانحے کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، شہدا کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے امدادی رقم کی تقسیم شروع ہوگئی ہے، کراچی چیمبر نے ہمیں گل پلازہ کے دکانداروں کی فہرست بناکر دی۔ ہم نے متاثرہ دکان داروں کو 5-5 لاکھ روپے دینا شروع کیے ہیں، متاثرین کے کاروباری سامان کے نقصان کا تخمینہ لگاکر ادائیگی کریں گے، شکر گزار ہوں کہ کچھ بلڈرز نے عارضی دکانیں متاثرین گل پلازہ کو دینے میں معاونت کی، دو ماہ میں متاثرین گل پلازہ کو امدادی رقم اور متبادل جگہ دیں گے، گل پلازہ میں جتنی دکانیں تھیں اتنی ہی دکانیں بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سال 10 ارب روپے جون تک انڈسٹریل انفراسٹریکچر پر خرچ کریں گے، صنعتی ایسوسی ایشنز خود منصوبوں پر کام کریں، میئر کراچی کو کابینہ نے 18 ارب روپے دینے کی منظوری دی ہے، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن سے بات کی ہے، 21 ارب روپے انفراسٹرکچرل بہتری کے لیے الگ رکھے ہیں، کراچی پاکستان کا مالی و تجارتی مرکز ہے جو ملکی پیداوار کا 25 فیصد اور سندھ کی معیشت کا 90 فیصد کراچی پیدا کرتا ہے، کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم شہر کی تجارتی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں سے شہر محفوظ اور مستحکم ہے، دہشت گردی میں کمی اور شہری نظم و نسق کی بحالی سے ترقی کے نئے مواقع کھلے ہیں، سیکیورٹی ایک مستقل عمل ہے، کراچی کے ہر شہری اور سرمایہ کار کو محفوظ بنانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، تاجر برادری کراچی کے مستقبل کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، قومی برآمدات میں کراچی کا حصہ بڑھانا ہماری ترجیح ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ پاکستان کے توانائی شعبے کی بنیاد ہے، ملک کے قدرتی گیس وسائل کا تقریباً 65 فیصد سندھ پیدا کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی قلت سے صنعتی پیداوار اور مسابقت متاثر ہو رہی ہے، سندھ کی صنعتوں کے لیے منصفانہ توانائی فراہم کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی، حکومت نجی شعبے کے ساتھ اعتماد بحال کرنے، پالیسی شفافیت اور کاروباری شراکت کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی کامیابی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حکومت، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور شہریوں کو مل کر چلنا ہوگا، بہت دباؤ ہے کہ ای چالان جرمانے کی شرح کم کریں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ قانون ہے کہ ہر سال عمارت میں جاکر اسکا فائر آڈٹ کیا جائے، فائر آڈٹ سول ڈیفنس کرتا ہے جو محکمہ داخلہ کے کنٹرول میں ہے، محکمہ داخلہ کے پاس امن و امان سمیت دیگر ذمہ داری ہے، ہر عمارت کو سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ جائزہ لیکر رپورٹ کررہے ہیں۔ فائر بریگیڈ پر رقم خرچ کی جائے تو صورت حال بہتر ہوسکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ عالمی بینک کے ساتھ ملکر کے فور پر کام کررہے ہیں، کراچی کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ڈی سیلنیشن پر جانا ہوگا، عالمی بینک کے صدر نے کہا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر انفراسٹرکچر کو بہتر نہیں کرسکتے، ہمارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو وفاقی حکومت بھی تسلیم کرتی ہے، میں لوگوں کو جلدی سلا نہیں سکتا البتہ میں لوگوں کو جلدی اٹھا سکتا ہوں، حکومت کو آپ کےتعاون کی سخت ضرورت ہے، درخواست کروں گا ہمارے ساتھ ملکر کام کریں، ہم ساتھ ملکر اس شہر کو بہتر انفراسٹرکچر دے سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مائی کراچی نمائش کا مراد علی شاہ نے نے کہا کہ گل پلازہ کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔