کراچی:

کراچی چیمبر آف کامرس کے تحت ایکسپو سینٹر میں تین روزہ 21 ویں مائی کراچی نمائش کا آغاز ہوگیا، نمائش میں 300 سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے اسٹالز لگائے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مائی کراچی نمائش کا افتتاح کیا، افتتاحی تقریب میں وزیر صنعت جام اکرام، معروف بزنس مین عارف حبیب، زبیرموتی والا سمیت دیگر صنعت کاروں اور مختلف ممالک کے سفارتکاروں نے شرکت کی۔ مائی کراچی نمائش میں پاکستانی مصنوعات کو ترجیحی طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مائی کراچی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے نمائش کے منتظمین اور تاجروں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش شہر کے کاروبار، ثقافت اور کمیونٹی کی اہم تقریب بن چکی ہے، 20-21 سال قبل کراچی کے سنگین حالات میں مائی کراچی نمائش کا آغاز کیا گیا جو اب اس شہر کے کلینڈر میں شامل ہوچکی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر کو سانحات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کو ہر فرد کا تعاون درکار ہے، شہدائے گل پلازہ کے لیے دعاگو ہوں، کوشش کی ہے کہ گل پلازہ سانحے کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، شہدا کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے امدادی رقم کی تقسیم شروع ہوگئی ہے، کراچی چیمبر نے ہمیں گل پلازہ کے دکانداروں کی فہرست بناکر دی۔ ہم نے متاثرہ دکان داروں کو 5-5 لاکھ روپے دینا شروع کیے ہیں، متاثرین کے کاروباری سامان کے نقصان کا تخمینہ لگاکر ادائیگی کریں گے، شکر گزار ہوں کہ کچھ بلڈرز نے عارضی دکانیں متاثرین گل پلازہ کو دینے میں معاونت کی، دو ماہ میں متاثرین گل پلازہ کو امدادی رقم اور متبادل جگہ دیں گے، گل پلازہ میں جتنی دکانیں تھیں اتنی ہی دکانیں بنائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سال 10 ارب روپے جون تک انڈسٹریل انفراسٹریکچر پر خرچ کریں گے، صنعتی ایسوسی ایشنز خود منصوبوں پر کام کریں، میئر کراچی کو کابینہ نے 18 ارب روپے دینے کی منظوری دی ہے، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن سے بات کی ہے، 21 ارب روپے انفراسٹرکچرل بہتری کے لیے الگ رکھے ہیں، کراچی پاکستان کا مالی و تجارتی مرکز ہے جو ملکی پیداوار کا 25 فیصد اور سندھ کی معیشت کا 90 فیصد کراچی پیدا کرتا ہے، کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم شہر کی تجارتی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں سے شہر محفوظ اور مستحکم ہے، دہشت گردی میں کمی اور شہری نظم و نسق کی بحالی سے ترقی کے نئے مواقع کھلے ہیں، سیکیورٹی ایک مستقل عمل ہے، کراچی کے ہر شہری اور سرمایہ کار کو محفوظ بنانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، تاجر برادری کراچی کے مستقبل کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، قومی برآمدات میں کراچی کا حصہ بڑھانا ہماری ترجیح ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ پاکستان کے توانائی شعبے کی بنیاد ہے، ملک کے قدرتی گیس وسائل کا تقریباً 65 فیصد سندھ پیدا کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی قلت سے صنعتی پیداوار اور مسابقت متاثر ہو رہی ہے، سندھ کی صنعتوں کے لیے منصفانہ توانائی فراہم کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی، حکومت نجی شعبے کے ساتھ اعتماد بحال کرنے، پالیسی شفافیت اور کاروباری شراکت کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی کامیابی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حکومت، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور شہریوں کو مل کر چلنا ہوگا، بہت دباؤ ہے کہ ای چالان جرمانے کی شرح کم کریں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ قانون ہے کہ ہر سال عمارت میں جاکر اسکا فائر آڈٹ کیا جائے، فائر آڈٹ سول ڈیفنس کرتا ہے جو محکمہ داخلہ کے کنٹرول میں ہے، محکمہ داخلہ کے پاس امن و امان سمیت دیگر ذمہ داری ہے، ہر عمارت کو سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ جائزہ لیکر رپورٹ کررہے ہیں۔ فائر بریگیڈ پر رقم خرچ کی جائے تو صورت حال بہتر ہوسکتی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ عالمی بینک کے ساتھ ملکر کے فور پر کام کررہے ہیں، کراچی کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ڈی سیلنیشن پر جانا ہوگا، عالمی بینک کے صدر نے کہا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر انفراسٹرکچر کو بہتر نہیں کرسکتے، ہمارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو وفاقی حکومت بھی تسلیم کرتی ہے، میں لوگوں کو جلدی سلا نہیں سکتا البتہ میں لوگوں کو جلدی اٹھا سکتا ہوں، حکومت کو آپ کےتعاون کی سخت ضرورت ہے، درخواست کروں گا ہمارے ساتھ ملکر کام کریں، ہم ساتھ ملکر اس شہر کو بہتر انفراسٹرکچر دے سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مائی کراچی نمائش کا مراد علی شاہ نے نے کہا کہ گل پلازہ کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا