کراچی کے علاقے بہادرآباد میں شہری سے 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ امریکی ڈالر لوٹنے کے واقعے کے بعد متاثرہ شہری سید معاذ علی کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے پولیس کی جانب سے ریکوری کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

سید معاذ علی کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے 200 تولہ سونا برآمد کرنے کا دعویٰ درست نہیں، حقیقت یہ ہے کہ انہیں صرف 10 فیصد سونا واپس ملا ہے جبکہ باقی 90 فیصد سونا ڈاکو لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔

متاثرہ شہری کے مطابق وہ گھر کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر رہے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار تین مسلح افراد آئے اور اسلحے کے زور پر 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ ڈالر چھین کر فرار ہو گئے۔

یاد رہے کہ 3 فروری کو بہادرآباد کے علاقے فاران سوسائٹی کے رہائشی شہری بینک لاکر سے 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ امریکی ڈالر لے کر گھر پہنچے تھے۔ جیسے ہی گھر کا دروازہ کھلا، موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان گیراج میں داخل ہو گئے اور زیورات و نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

شہری نے ملزمان کا کچھ فاصلے تک تعاقب بھی کیا، تاہم تیز رفتاری کے باعث ایک بڑے اسپیڈ بریکر پر موٹر سائیکل بے قابو ہو گئی اور ملزمان گر پڑے، جس سے زیورات سڑک پر بکھر گئے۔ اس دوران اطراف میں موجود سکیورٹی گارڈز کو دیکھ کر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور زیورات تحویل میں لے لیے، تاہم پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 90 فیصد سونا برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل تولہ سونا ہو گئے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا