سال 2025 پاکستان کے لیے سیکیورٹی کے اعتبار سے نہایت تشویشناک ثابت ہوا، جہاں خودکش حملوں اور دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان میں سے متعدد کارروائیاں افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، سے جڑی ہوئی ہیں، جس نے نہ صرف داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کا عزم، صوبائی ایپکس کمیٹی کا جامع لائحہ عمل طے

رپورٹس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور دشوار گزار سرحد شدت پسندوں کے لیے آمدورفت کو آسان بنائے ہوئے ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر دہشتگرد عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچ نکلتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ جیسے اداروں سے وابستہ نظریات نے افغان طالبان کی قیادت کو متاثر کیا، جس کے اثرات ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی صورت میں پاکستان کے اندر ظاہر ہو رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی کی جڑیں ان افغان طالبان جنگجوؤں سے ملتی ہیں جو امریکی جنگ کے دوران پاکستان میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ شدت پسندانہ سوچ، نیٹ ورکس اور طریقۂ کار لائے۔ یہ گروہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتا رہا ہے، جس میں خودکش حملے اور دیگر پرتشدد کارروائیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چمن میں پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملہ، پولیس اہلکار شہید

ماہرین کے مطابق 1990 کی دہائی میں پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی حمایت کے باوجود، 2021 کے بعد حالات بدل گئے اور سرحد پار دہشتگردی روکنے میں مؤثر تعاون نظر نہیں آیا۔ چینی منصوبوں اور عملے کو لاحق خطرات نے اس مسئلے کو علاقائی سطح پر بھی سنگین بنا دیا ہے، جس سے معاشی ترقی اور عالمی اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

 

اگرچہ مختلف مسلم ممالک کی ثالثی میں مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، تاہم سرحدی کشیدگی اور دہشتگردی کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا، سرحدوں کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنائے گا، اور اس مقصد کے لیے علاقائی تعاون اور عالمی حمایت ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار