ازبک سرمایہ کاروں کومحفوظ و پُر کشش ماحول فراہم کرینگے، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان ازبکستان بزنس فورم کے انعقاد پر وزیراعظم شہبازشریف نےخطاب میں کہا پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں پلانٹس لگانےکےخواہاں ہیں،ٹیکسٹائل پلانٹس سے دونوں ملکوں کو معاشی فائدہ ہوگا،ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کامحفوظ اورپُرکشش ماحول فراہم کریں گے،،3 ارب 40کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت ہے
وزیراعظم شہباز شریف نےکہااقتصادی تعلقات اورتجارتی روابط میں اضافہ خوش آئند ہے،گزشتہ بزنس فورم کی بدولت باہمی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا،گزشتہ ایک سال میں 450 ملین ڈالرکی تجارتی سرگرمیاں ہوئیں،سرمایہ کاری کےفروغ کیلئےبزنس فورم ایک مؤثرپلیٹ فارم ہے،دونوں ملکوں میں باہمی تجارت کےمزید فروغ کی صلاحیت موجود ہے،باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالرتک لےجانےپراتفاق ہوا، سائنس وٹیکنالوجی،توانائی ،زراعت میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا۔
صدر ازبکستان نےکہادونوں ممالک میں تجارتی تعاون کو وسعت دیں گے،صحت کے شعبےمیں بھرپور تعاون کیلئے تیار ہیں،پاکستانی تاجروں کو 10سال کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ دیں گے،ازبکستان میں کاروبار کیلئے ماحول سازگار ہے،ٹیکسٹائل میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کریں گے، معاہدوں پر عملدرآمد سے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
اس سےقبل ازبک صدرشوکت مرزیایوف کےدورہ پاکستان کامشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا،مشترکہ اعلامیے کےمطابق وزیراعظم شہباز شریف اورازبک صدر کے درمیان جامع اور تفصیلی مذاکرات ہوئے،ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیےکےمطابق ثقافتی،تعلیمی اورعوامی روابط مضبوط بنانےکافیصلہ کیاگیا،دفاعی تعاون، مشترکہ مشقوں اور تربیت بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،دونوں ممالک کا خودمختاری،علاقائی سالمیت اورباہمی مفادات کےتحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا،بین الپارلیمانی تعاون مزیدمضبوط بنانے پر زوردیا گیا،طے پایا تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت اور آئی ٹی میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
ازبکستان، افغانستان،پاکستان ریلوے منصوبےکی جلد تکمیل کے ساتھ ساتھ دہشتگردی، انتہاپسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر زور دیا گیا،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے دورے کی دعوت قبول بھی کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔