سکھر: عدالت نے این سی سی آئی اے افسر پر 25 ہزار جرمانہ لگادیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سکھر نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے افسر پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
عدالت نے این سی سی آئی اے کے دفتر میں حبس بے جا میں قید نوجوان کی بازیابی کے معاملے میں افسر پر جرمانہ عائد کیا ہے۔
عدالتی حکم پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سکھر کے دفتر پر 2 نوجوانوں کی بازیابی کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ نے چھاپا مارا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ متاثرہ نوجوان این سی سی آئی افسر کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی حق رکھتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج نے این سی سی آئی اے افسر کو 10 تاریخ کو دوسرے لاپتہ نوجوان کو پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل این سی سی آئی اے افسران نے 2 نوجوانوں کو آن لائن فراڈ کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔
بیلف کے مطابق اہلخانہ کی درخواست پر عدالت نے این سی سی آئی اے دفتر پر چھاپا مار کر ایک نوجوان کو بازیاب کرایا تھا جبکہ دوسرا نوجوان دفتر میں موجود نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے این سی سی ا ئی اے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔