پشاور ہائیکورٹ، خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں ترمیم کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پشاورّ(نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں ترمیم کے خلاف کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے 2024 میں کی جانے والی ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے 28 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تقرریاں وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا غیر آئینی ہے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا بھی غیر قانونی ہے۔
فیصلے کے مطابق یہ ترامیم پولیس کی عملی خودمختاری کو ختم کر کے اسے سیاسی بناتی ہیں۔ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کی نگرانی صرف پالیسی رہنمائی تک محدود ہونی چاہیے۔ روزمرہ انتظامیہ، تبادلے اور تعیناتیاں صرف آئی جی پولیس کے پاس ہونے سے کمانڈ برقرار رہتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انسپکٹر جنرل پولیس کو بائی پاس کرکے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول کمانڈ اسٹرکچر کو توڑ دیتا ہے۔ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری آئی جی پولیس پر ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے جواب دہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔