پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کالعدم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کے پی پولیس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے ذریعے کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ رِٹ پٹیشن نمبر 7810 پی آف 2025 پر سنایا گیا ہے جو بیرسٹر محمد یوسف خان بنام حکومتِ خیبر پختونخوا و دیگر کو فریق بناتے ہوئے دائر کی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 2024 کی ترامیم کے تحت سینئر پولیس افسران (بی ایس 18 اور اس سے زائد) کی تعیناتیوں کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا پولیس کی پیشہ ورانہ اور عملی خودمختاری کو غیر آئینی طور پر ختم کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
عدالت کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں پولیس کو قانون کی بجائے سیاسی مصلحتوں کا آلہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو آئین کے منافی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کو پولیس پر صرف محدود نوعیت کی ’نگرانی‘ حاصل ہے، جس کا دائرہ کار پالیسی سازی اور عمومی نگرانی تک محدود ہے۔
پولیس فورس کے روزمرہ امور، بشمول تقرریاں، تبادلے اور اندرونی انتظامی فیصلے، مکمل طور پر آئی جی پی کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہییں تاکہ کمانڈ کا تسلسل برقرار رہے، نظم و ضبط متاثر نہ ہو اور پولیس قیادت محض علامتی عہدہ بن کر نہ رہ جائے۔
مزید پڑھیں:
فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ایک غیر سیاسی اور عملی طور پر خودمختار پولیس انتظامی سہولت نہیں بلکہ ایک آئینی ضرورت ہے، کیونکہ بنیادی حقوق خصوصاً زندگی کا حق (آرٹیکل 9)، منصفانہ سماعت کا حق (آرٹیکل 10-اے) اور مساوات کا حق (آرٹیکل 25) اسی صورت مؤثر طور پر محفوظ رہ سکتے ہیں جب فیلڈ کمانڈ سیاسی وابستگی یا منظوری کا محتاج نہ ہو۔
عدالت نے ’ریڈنگ ڈاؤن‘ کے اصول کا اطلاق کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پولیس کو ہدایات دینے کے اختیار کی تشریح بھی محدود انداز میں کی اور قرار دیا کہ یہ اختیار صرف پالیسی امور تک محدود ہے، انفرادی آپریشنل فیصلوں یا افسران کی تعیناتی و تبادلے تک اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیں:
عدالت کے مطابق آئی جی پی کو نظرانداز کر کے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول نہ صرف کمانڈ اسٹرکچر کو توڑتا ہے بلکہ ادارہ جاتی طور پر افسران کے کیریئر کو سیاسی وابستگی سے مشروط کر دیتا ہے۔
پولیس کی آزادی کے اصول کو دہراتے ہوئے عدالت نے مشہور بلیک برن اصول کا حوالہ بھی دیا اور واضح کیا کہ امن و امان کے نفاذ کی ذمہ داری پولیس سربراہ پر عائد ہوتی ہے، جو ’صرف قانون کے سامنے جوابدہ ہے اور کسی اور کے سامنے نہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ عدالت نے
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔