عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، پمز اسپتال کی تازہ میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، پمز اسپتال کی تازہ میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پمز اسپتال اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے معائنے کی تازہ میڈیکل رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی تشخیص کی ہے جبکہ ذرائع کے مطابق ان کے اہل خانہ کو رپورٹ موصول ہوگئی ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی جانب سے جاری بانی پی ٹی آئی کی طبی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 74 سالہ عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈوسکوپی، آنکھ کے اندرونی دبا کی پیمائش، ضروری لیبارٹری ٹیسٹس اور ریٹینا کا آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی شامل تھا اور ابتدائی معائنے کی بنیاد پر دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص کی گئی اور اسپتال میں فالو اپ علاج تجویز کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب تجویز کردہ طریقہ علاج کے لیے پمز منتقل کیا گیا، اسپتال میں عمران خان کو دوا کے انجیکشن کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کیا گیا۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج سے قبل مریض سے رضامندی لی گئی اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کا کامیاب طبی علاج کیا گیا۔پمز کی انتظامیہ نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے تفصیلی میڈیکل رپورٹ اڈیالہ جیل حکام کو بھجوا دی۔
انتظامیہ کے مطابق عمران خان کی مجموعی صحت تسلی بخش ہے تاہم پمز اسلام آباد کے ماہرین کے تفصیلی معائنے میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں بینائی متاثر ہونے کی تشخیص کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق طبی معائنے کے بعد عمران خان میں رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کو علاج کے لیے رات گئے پمز منتقل کیا گیا، پمز میں عمران خان کو اینٹی وی جی ای ایف انٹرا ویٹریل انجیکشن دے کر علاج معیاری پروٹوکول کے تحت آپریشن تھیٹر میں انجام دیا گیا اور طبی عمل تقریبا 20 منٹ میں کامیابی سے مکمل ہوا اور حالت مستحکم رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردہشتگردی کے خلاف کسی نرمی یا ابہام کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت دہشتگردی کے خلاف کسی نرمی یا ابہام کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت عمان مذاکرات؛ ایران کا ابتدائی منصوبہ امریکا تک پہنچا دیا گیا خود کش بمبار نے افغانستان سے تربیت حاصل کی،حال ہی میں سرحد پار سے آیا تھا،حکومتی ذرائع اسلام آباد دھماکہ: برطانوی اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کا اظہار مذمت اسلام آباد میں دھماکہ، رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹوئنیسکو کی شدید مذمت وزیر اعظم نے ڈاکٹر نیاز احمد کو چیئرمین ایچ ای سی پاکستان مقرر کردیا ،عہدے کا چارج بھی سنبھال لیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان کی دائیں آنکھ میڈیکل رپورٹ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔