اسلام آباد میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدّم کی مسجد حضرت خدیجہ الکبریٰ میں دھماکے کی پر زور مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ایک بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام، خصوصاً متاثرہ خاندانوں کے لیے اپنی خلوص آمیز اور گہری تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، ہماری دعائیں اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ اسلام آباد میں متعین جمہوری اسلامی ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری مقدّم نے کہا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کی جانب سے، اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے دہشتگردانہ حملے، جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم شہری شہید اور زخمی ہوئے، کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام، خصوصاً متاثرہ خاندانوں کے لیے اپنی خلوص آمیز اور گہری تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، ہماری دعائیں اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، اور ہم زخمیوں کے محفوظ اور جلد صحت یاب ہونے کے لیے دعاگو ہیں، اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور انہیں جنت الفردوس میں ابدی آرام عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خاندانوں کے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔