پاکستان عوامی تحریک کی اسلام آباد میں شیعہ جامع مسجد پر خودکش حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اپنے مذمتی بیان میں پاکستان عوامی تحریک کراچی کے رہنماؤں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی شیعہ جامع مسجد میں ہونے والے افسوسناک خودکش حملے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر پاکستان عوامی تحریک کراچی کے صدر راؤ کامران محمود، سید ظفر اقبال شاہ، مطیع الرحمٰن آسی، عدنان رؤف انقلابی، نوید عالم، ساجدہ جبین اور محمود میمن نے گہرے رنج و غم اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں نے بزدلانہ اور انسانیت سوز کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بدترین دہشتگردی ہے، جو نہ صرف ملک کے امن بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کیلئے بھی سنگین خطرہ ہے۔
رہنماؤں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں، سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کیا جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا اور ایسے عناصر کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے۔ رہنماؤں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔