ریلی کے دوران خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد مشہدی نے کہا کہ اسلام آباد جیسے حساس اور محفوظ تصور کیے جانے والے شہر میں مسجد پر حملہ سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے، دہشتگردوں نے پاک سرزمین پر بزدلانہ حملہ کیا ہے اور اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے خلاف امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کی جانب سے احتجاجی و ماتمی ریلی جعفر طیار سوسائٹی سے نیشنل ہائی وے کی جانب نکالی گئی، جس میں مظاہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے دوران لبیک یا حسینؑ، شہادت شہادت سعادت سعادت اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ ریلی میں مرکزی مسجد جعفر طیار کے پیش نماز مولانا نسیم حیدر، آئی ایس او ملیر کے صدر، آئی ایس او کراچی کے ترجمان سمیت علماء کرام، شیعہ و سنی مفکرین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نسیم حیدر نے کہا کہ شہادتیں اقوام کو زندہ رکھتی ہیں اور دشمن نے ملک کے دارالحکومت کو نشانہ بنا کر اپنی بزدلی ثابت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیوں سے قوم کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔

ریلی کے دوران خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد مشہدی نے کہا کہ اسلام آباد جیسے حساس اور محفوظ تصور کیے جانے والے شہر میں مسجد پر حملہ سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے پاک سرزمین پر بزدلانہ حملہ کیا ہے اور اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے، شہداء کے جنازوں کے ساتھ احترام کا برتاؤ کیا جائے اور اسلام آباد میں خون کی قلت کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا کراروی نے کہا کہ دارالحکومت میں مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ شرکاء نے اس موقع پر کہا کہ مساجد اور عبادت گاہیں امن کی علامت ہوتی ہیں، ان پر حملے پورے معاشرے پر حملے کے مترادف ہیں۔ مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور قوم امن دشمن عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خطاب کرتے ہوئے مولانا اسلام آباد آئی ایس او نے کہا کہ

پڑھیں:

سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے