احتجاج کے دوران شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور کسی بھی صورت امن دشمن قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی، صوبائی و کراچی کے ڈویژنل رہنماؤں علامہ باقر عباس زیدی، علامہ حیات عباس نجفی، علامہ صادق جعفری، علامہ مختار امامی سمیت دیگر نے شیعہ جامع مسجد خدیجتہ الکبریٰ اسلام آباد میں جمعہ اجتماع میں بے گناہ نمازیوں پر دہشتگردی کے واقعہ کو ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے اور 3 روز سوگ کا اعلان کردیا۔ نمائش چورنگی پر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مقصد پاکستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنا اور فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینا ہے، معصوم نمازیوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف کھلا جرم ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ رہنماؤں نے اس دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں طالبان و کالعدم جماعتوں کا نیٹ ورک مضبوط ہو رہا ہے، تکفیری دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے بغیر قیام امن ممکن نہیں، ملک میں دہشتگردی کے متواتر واقعات ملکی عوام میں خوف و مایوسی کی فضاء قائم ہو رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عبادت گاہیں امن کی علامت ہوتی ہیں، ان پر حملے دراصل پورے معاشرے پر حملے کے مترادف ہیں۔ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے، مسلسل سیکیورٹی ناکامیاں عوام کی جان و مال کے تحفظ پر سوالیہ نشان ہیں، وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مذہبی مقامات کی سیکیورٹی مزید سخت کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ احتجاج کے دوران شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور کسی بھی صورت امن دشمن قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہشتگردی کے کرتے ہوئے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے