دہشتگردی کے خلاف کسی نرمی یا ابہام کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
دہشتگردی کے خلاف کسی نرمی یا ابہام کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )اسلام آباد کی امام بارگاہ میں جمعے کے روز ہونے والے خود کش دھماکے میں 31 افراد جان کی بازی ہار گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں دھماکے کی تفصیلات، ریسکیو آپریشن اور دہشت گرد کے پس منظر سے آگاہ کیا۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ دھماکہ 42 سالہ شخص نے کیا، جو افغان شہری نہیں، لیکن اس کا افغانستان کا سفر متعدد مرتبہ ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں 31 افراد شہید اور متعدد سو سے زائد زخمی ہوئے۔
ریسکیو ٹیمیں 10 سے 12 منٹ میں موقع پر پہنچیں اور فوری طور پر اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔طلال چوہدری نے مزید کہا کہ دھماکے کا مقصد سافٹ ٹارگٹس جیسے بازار، اسکول، مساجد، امام بارگاہیں اور بینک تھے۔ اس حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی شہید ہوئے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کا پیٹرن ایک جیسا ہے: مذہبی بنیاد پر دہشت گردی، صوبائی بنیاد پر دہشت گردی، اور بلوچ شدت پسندوں کی منصوبہ بندی شامل ہے۔وزیر مملکت نے وضاحت کی کہ دہشت گرد نے حملہ پچھلے ایک ہفتے میں پلان کیا تھا لیکن اس کا نقصان ان کے توقع سے زیادہ ہوا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور حکومت کسی نرمی یا ابہام کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ، کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی اسلام آباد خود موقع پر موجود رہے اور طلال چوہدری نے بھی وزیراعظم و وزیر داخلہ کے احکامات پر فوری طور پر پی ایم ایس ہسپتال کا دورہ کیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ امام بارگاہ کے منتظمین کی جرات مندانہ خدمات اور پاکستان کے جذبے نے فورس کے حوصلے کو بڑھایا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمان مذاکرات؛ ایران کا ابتدائی منصوبہ امریکا تک پہنچا دیا گیا عمان مذاکرات؛ ایران کا ابتدائی منصوبہ امریکا تک پہنچا دیا گیا خود کش بمبار نے افغانستان سے تربیت حاصل کی،حال ہی میں سرحد پار سے آیا تھا،حکومتی ذرائع اسلام آباد دھماکہ: برطانوی اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کا اظہار مذمت اسلام آباد میں دھماکہ، رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹوئنیسکو کی شدید مذمت وزیر اعظم نے ڈاکٹر نیاز احمد کو چیئرمین ایچ ای سی پاکستان مقرر کردیا ،عہدے کا چارج بھی سنبھال لیا آٹھ فروری احتجاج؛ پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات طےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :