اسلام آباد مسجد دھماکے پر حزب اللہ کا پاکستانی قوم سے اظہارِ تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
بیان میں کہا گیا کہ یہ دہشتگردانہ نظریہ کسی ایک فرقے یا گروہ کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ ہر اُس شخص پر حملہ آور ہوتا ہے جو حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف کھڑا ہو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، جنس یا نسل سے ہو، اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام عرب اور اسلامی ممالک سیکورٹی، فکری، ثقافتی، آگاہی اور دینی سطح پر مکمل تعاون کریں تاکہ اس مجرمانہ نظریے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ نے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے کیے گئے دہشتگرد بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں نمازی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اپنے تعزیتی بیان میں حزب اللہ نے کہا کہ یہ گھناؤنا حملہ ایک بار پھر اس گمراہ کن تکفیری نظریے کی حقیقت کو آشکار کرتا ہے، جو خونخوار قاتلوں کے جتھوں کو منظم کرتا ہے اور اختلاف رکھنے والے ہر فرد کو کافر قرار دیتا ہے، یہ نظریہ آج بھی عالمی استکباری طاقتوں اور دنیا کے جابر حکمرانوں کے ہاتھوں ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس کا مقصد فتنہ و فساد پھیلانا، ممالک اور معاشروں کو تقسیم کرنا اور امن و استحکام کو تباہ کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ دہشتگردانہ نظریہ کسی ایک فرقے یا گروہ کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ ہر اُس شخص پر حملہ آور ہوتا ہے جو حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف کھڑا ہو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، جنس یا نسل سے ہو، اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام عرب اور اسلامی ممالک سیکورٹی، فکری، ثقافتی، آگاہی اور دینی سطح پر مکمل تعاون کریں تاکہ اس مجرمانہ نظریے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور ان قاتلوں و مجرموں کو اپنے معاشروں اور ممالک سے نکالا جا سکے۔ حزب اللہ نے پاکستانی قوم اور شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب ہو اور پاکستان کے عوام کو امن و سلامتی عطا فرمائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حزب اللہ
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ